اہم ترین

وفاقی ترقیاتی بجٹ پیٹرول، ڈیزل سستا کرنے کیلئے 100 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ قربان

ملک میں مہنگائی کے طوفان کے درمیان حکومت نے ایک اور بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب روپے کی بھاری کٹوتی کر دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے لئے 1000 ارب روپے کے ترقیاتی بجت کی کٹوتیوں کا دائرہ وسیع ہے، جس میں صوبوں، اہم اداروں اور بنیادی شعبے شدید متاثر ہوں گے۔

صوبوں اور خصوصی علاقوں کے ترقیاتی بجٹ میں 24 ارب 92 کروڑ روپے کم کر دیے گئے، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے مختص فنڈز میں بھی 8 ارب 21 کروڑ روپے کی بڑی کمی کر دی گئی۔

ضم شدہ قبائلی اضلاع بھی اس فیصلے سے محفوظ نہ رہ سکے، جہاں ترقیاتی بجٹ میں 6 ارب 45 کروڑ روپے کی کٹوتی کی گئی۔ دوسری جانب نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے بجٹ میں سب سے بڑی ضرب لگاتے ہوئے 22 ارب 33 کروڑ روپے کم کر دیے گئے۔

بجلی کے منصوبوں میں 9 ارب روپے ، آبی وسائل میں 12 ارب 88 کروڑ روپے ، وفاقی تعلیم میں 3 ارب 21 کروڑ روپے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ سے 4 ارب 22 کروڑ روپے واپس لے لیے گئے۔۔

اسی طرح آئی ٹی، صحت، داخلہ، ریلوے اور دفاع سمیت تقریباً ہر بڑے شعبے کے ترقیاتی فنڈز میں اربوں روپے کی کمی کر دی گئی ہے۔

کٹوتی کی گئی رقم کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر سبسڈی دینے میں استعمال کیا جائے گا۔ جبکہ کچھ حصہ وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ میں منتقل کیا جائے گا۔

حکومتی مؤقف کے مطابق یہ اقدامات عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے کیے جا رہے ہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں پر کٹوتی مستقبل کی ترقی کو سست کر سکتی ہے۔

پاکستان