اہم ترین

ناکامی کو معاہدہ نہ کہیں! ایران نے ٹرمپ کے مذاکرات کا دعویٰ مسترد کر دیا

ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور اسے ناکامی کو معاہدہ قرار دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے ایک بیان میں امریکی مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کے اندرونی اختلافات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ آپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ اپنی ناکامی کو معاہدہ نہ کہیں، اور واضح کیا کہ ایران اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹنے والا نہیں۔

ابراہیم ذوالفقاری کے مطابق جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، نہ تو ماضی کی تیل کی قیمتوں کی طرف واپس جائیں گے اور نہ ہی سابق عالمی نظام کو قبول کرے گا۔ اور یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوگی جب ایرانی قوم کے خلاف کارروائی کا خیال مکمل طور پر دماغ سے نکال دیا جائے گا۔

انہوں نے اپنے بیان میں مزید سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پہلا اور آخری مؤقف یہ ہے کہ ہم جیسے لوگ آپ جیسے لوگوں سے کبھی نہیں مل سکتے۔ نہ اب، نہ کبھی۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ مذاکرات یا مفاہمت کے امکانات پر متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

پاکستان