اہم ترین

اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز خود دھوکہ دینے لگے، صارفین کو گمراہ کرنے کا انکشاف

امریکا میں کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مشکوک اے آئی ڈیٹیکٹرز ہیومنائز کرنے کے نام پر صارفین سے رقم بٹورنے کے لیے فراڈ اسکیم چلا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ایک جانب اے آئی ٹولز انسانوں کی مدد کرتے ہیں۔ تو دوسری جانب کئی اے آئی ڈیٹیکٹرز دھوکا دہی سے رقم اینٹنے میں بھی مصروف ہیں۔

بعض آن لائن ٹولز مستند اور انسانی تحریروں کو بھی اے آئی سے تیار کردہ قرار دیتے ہیں، جس کے بعد صارفین کو پیشکش کی جاتی ہے کہ وہ ادائیگی کر کے اپنے متن کو انسانی بنا سکتے ہیں۔

تحقیق میں جسٹ ڈن اے آئی ، ٹیسکٹ گارڈ اور ریفائنلے جیسے ٹولز کا جائزہ لیا گیا، جنہوں نے مختلف زبانوں میں لکھی گئی اصل تحریروں کو بھی غلط طور پر اے آئی جنریٹڈ قرار دیا۔ یہاں تک کہ ایک ادبی کلاسک متن کو بھی بڑی حد تک اے آئی مواد بتایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ان ٹولز نے نہ صرف غلط نتائج دیے بلکہ ان غلطیوں کو منافع کمانے کے لیے استعمال کیا۔ ایک ٹول نے انسانی تحریر کو 88 فیصد اے آئی مواد قرار دے کر اسے درست کرنے کے لیے فیس طلب کی۔

ماہرین کے مطابق یہ ٹولز درحقیقت تکنیکی تجزیے کے بجائے پہلے سے طے شدہ یا اسکرپٹڈ نتائج دیتے ہیں۔ جرمنی سے تعلق رکھنے والی محقق ڈیورا ویبر وولف نے کہا کہ یہ اے آئی ڈیٹیکٹر نہیں بلکہ ایک اسکیم ہے جس کا مقصد ہیومنائزنگ ٹول فروخت کرنا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایسے جعلی ٹولز کو سیاسی اور سماجی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ہنگری میں حکومتی حامی سوشل میڈیا صارفین نے اپوزیشن کی ایک دستاویز کو اے آئی سے تیار شدہ قرار دینے کے لیے انہی ٹولز کے اسکرین شاٹس استعمال کیے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس رجحان سے دھوکے دہی سے رقم اینٹنے کے عمل کو فروغ مل رہا ہے، جس کے تحت حقیقی مواد کو بھی جعلی قرار دے کر مسترد کیا جا سکتا ہے۔

کورنیل یونیورسٹی جیسے اداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ اے آئی ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں اور اس پر مکمل انحصار ممکن نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جعلی اے آئی ڈیٹیکٹرز نا صرف صارفین کو مالی نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ آن لائن معلوماتی نظام میں اعتماد کو بھی شدید متاثر کر رہے ہیں، جس سے غلط معلومات کے پھیلاؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان