اہم ترین

ایرانی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل، داعش کے مبینہ 2 ارکان کو سزائے موت

ایران نے شدت پسند تنظیم داعش سے مبینہ تعلق اور ریاست کے خلاف مسلح سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں دو افراد کو پھانسی دے دی۔

ایرانی عدلیہ کے سرکاری میڈیا ادارے “میزان” کے مطابق دونوں ملزمان کی سزائے موت پر عمل درآمد کردیا گیا، جبکہ دونوں افراد کی سزا اس سے قبل ایران کی سپریم کورٹ برقرار رکھ چکی تھی۔

پھانسی پانے والوں کی شناخت محی الدین عبداللہی اور حسین پلانی کے نام سے ہوئی ہے۔ ایرانی حکام کا الزام ہے کہ دونوں داعش کے ایک مبینہ سیل کے رکن تھے، جو ایران کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ملکی سلامتی کے خلاف کارروائیوں میں ملوث تھا۔

عدالتی حکام کے مطابق یہ گروہ ایران اور عراق کی سرحد کے قریب واقع کوہ بامو کے علاقے میں سرگرم تھا اور حساس مقامات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے گروہ کے ارکان کو گرفتار کیا، جس کے بعد ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔

ایرانی عدلیہ کے مطابق مقدمے کی سماعت کے بعد دونوں ملزمان کو دہشت گردی، داعش سے وابستگی اور ریاست کے خلاف مسلح کارروائیوں کے الزامات میں سزائے موت سنائی گئی، جسے بعد ازاں ایران کی سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔

واضح رہے کہ ایران گزشتہ کئی برسوں سے داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف سخت کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ملک میں دہشت گرد حملوں کی روک تھام اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم اس مقدمے میں عائد الزامات اور عدالتی کارروائی کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

پاکستان