اہم ترین

شوگر کے مریضوں کی سماعت متاثر ہونے کا خطرہ دوگنا زیادہ: تحقیق

ایک نئی بین الاقوامی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس صرف آنکھوں، گردوں اور اعصاب ہی نہیں بلکہ سماعت کو بھی متاثر کر سکتی ہے، تاہم اس پیچیدگی کو اب تک معمول کی طبی جانچ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

طبی جریدے ڈائبیٹیز میٹابولزم ریسرچ اینڈ ریویوز نامی جرنل میں شائع کے مطابق تحقیق میں 2000 سے 2025 کے درمیان شائع ہونے والی 29 مشاہداتی تحقیقات کا جائزہ لیا گیا۔ ان مطالعات میں دنیا بھر کے 17 ہزار سے زائد بالغ افراد، جن میں زیادہ تر ٹائپ ٹو ذیابیطس یا پری ذیابیطس کے مریض تھے، شامل تھے۔

تحقیق کے مطابق ذیابیطس کے شکار افراد میں نمایاں سماعتی کمزوری کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ پایا گیا، جبکہ ہر چار میں سے تقریباً ایک مریض درمیانے یا شدید درجے کی سماعتی کمزوری کا شکار تھا۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، ڈاکٹر مہوش نثار کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کی آنکھوں، گردوں اور اعصاب کی باقاعدہ اسکریننگ کی جاتی ہے، لیکن سماعت کے ٹیسٹ کو کبھی معمول کے طبی پروٹوکول میں شامل نہیں کیا گیا، جس کے باعث یہ مسئلہ اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔

محققین نے یہ بھی پایا کہ سماعت متاثر ہونے کا خطرہ 60 سال سے کم عمر ذیابیطس کے مریضوں میں نسبتاً زیادہ تھا۔ اسی طرح ایسے افراد جنہیں ذیابیطس ہوئے 10 سال سے کم عرصہ گزرا تھا، ان میں بھی سماعتی مسائل کا خطرہ نمایاں طور پر موجود تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پیچیدگی بیماری کے ابتدائی برسوں میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مسلسل بلند بلڈ شوگر اندرونی کان کی باریک خون کی نالیوں اور اعصاب کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جس سے وقت کے ساتھ سماعت متاثر ہونے لگتی ہے۔ تاہم اس تعلق کے حیاتیاتی اسباب کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

تحقیق میں سفارش کی گئی ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے معمول کے ہیئرنگ ٹیسٹ کو بھی آنکھوں، گردوں اور اعصابی معائنے کی طرح طبی نگہداشت کا حصہ بنایا جائے تاکہ سماعتی کمزوری کی بروقت تشخیص ہو سکے اور مریضوں کو جلد مناسب علاج یا ہیئرنگ ایڈز فراہم کیے جا سکیں۔

تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ جائزہ مشاہداتی مطالعات پر مبنی ہے، اس لیے یہ ثابت نہیں کرتا کہ ذیابیطس براہِ راست سماعتی کمزوری کا سبب بنتی ہے، بلکہ دونوں کے درمیان مضبوط تعلق کی نشاندہی کرتا ہے۔ مزید طویل مدتی تحقیقات اس تعلق اور معمول کی ہیئرنگ اسکریننگ کے فوائد کو واضح کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

پاکستان