اہم ترین

نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ 2022 سے متاثر، اربوں روپے کے نقصانات کا انکشاف

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ 2025-26 میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی منصوبہ بندی، نگرانی اور مالی نظم و نسق پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ 508 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والا منصوبہ اپنے مالی، تجارتی اور پیداواری اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، جبکہ پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کا مقصد بھی پورا نہ ہو سکا۔

رپورٹ کے مطابق جولائی 2022 میں ہیڈ ریس ٹنل بیٹھنے کے بعد منصوبے سے بجلی کی پیداوار معطل ہو گئی تھی، جبکہ مئی 2024 سے پاور ہاؤس مکمل طور پر بند ہے اور تاحال بحال نہیں ہو سکا۔

آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیڈ ریس اور ٹیل ریس ٹنلز کو پہنچنے والے نقصان کے باعث 99 ارب 18 کروڑ روپے سے زائد کا مالی نقصان ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ نیپرا سے ریفرنس ٹیرف کی بروقت منظوری نہ ملنے کے باعث 77 ارب روپے کے نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق 30 جون 2025 تک منصوبے کے واجبات اس کے موجودہ اثاثوں سے 307 ارب روپے سے زائد بڑھ چکے تھے، جبکہ 508 ارب روپے کی مجموعی لاگت کے مقابلے میں صرف 180 ارب روپے کی وصولی ممکن ہو سکی۔

آڈٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ ڈیزائن میں تبدیلیوں، ناقص منصوبہ بندی اور انتظامی کمزوریوں کے باعث منصوبے کی لاگت اور تکمیل کی مدت میں نمایاں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق ٹنل بیٹھنے کے باوجود تعمیراتی کمپنی سے 41 ارب روپے کا انشورنس کلیم حاصل نہیں کیا جا سکا۔ مزید یہ کہ 415 ارب 80 کروڑ روپے کی انشورنس پالیسی جون 2023 میں ختم ہو گئی، جس میں نیشنل انشورنس کمپنی نے صرف دو ماہ کی توسیع دی، جبکہ اگست 2023 کے بعد پالیسی کی تجدید ہی نہیں کی جا سکی۔ بعد ازاں واپڈا ایکوپمنٹ پروٹیکشن اسکیم کے تحت نئی انشورنس اکتوبر 2024 میں منظور کی گئی۔

آڈٹ رپورٹ میں ہیڈ ریس ٹنل میں موجود نقائص کی فوری مرمت، پانی کی دستیابی اور بہاؤ کے مطابق بجلی کی پیداوار کے اہداف پر نظرثانی، منصوبے کے دوران معاہدوں کی تمام شرائط پر سختی سے عمل درآمد اور اثاثوں کے تحفظ کے لیے مناسب انشورنس کوریج یقینی بنانے کی سفارشات بھی کی گئی ہیں۔

پاکستان