امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کو اپنے 26 سابق ملازمین کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کا سامنا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی نے بڑے پیمانے پر ملازمین کی برطرفی کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آّئی) کا استعمال کیا اور اس عمل میں میڈیکل یا خاندانی رخصت پر موجود ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک کیا۔
اے ایف پی کے مطابق یہ مقدمہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ کی عدالت میں دائر کیا گیا، جہاں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ میٹا نے ملازمین کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور برطرفی کے لیے منتخب کرنے کا اختیار منیجرز کے بجائے اے آئی سسٹمز کو دے دیا تھا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اے آئی نے ملازمین کو کارکردگی کے نمبرز، پیداواری صلاحیت، آؤٹ پٹ اور دیگر ڈیجیٹل پیمانوں کی بنیاد پر اسکور اور درجہ بندی دی۔ تاہم میڈیکل یا فیملی رخصت پر موجود ملازمین اور معذوری کے باعث خصوصی سہولیات حاصل کرنے والے افراد ایسے پیمانوں میں قدرتی طور پر کم اسکور حاصل کرتے ہیں، جس کے باعث انہیں غیر متناسب طور پر برطرفیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
71 صفحات پر مشتمل درخواست کے مطابق متاثرہ تمام 26 ملازمین یا تو قانونی طور پر محفوظ میڈیکل یا خاندانی رخصت پر تھے، یا انہوں نے معذوری کے باعث خصوصی سہولیات کی درخواست دی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ کمپنی نے قانون کے تقاضوں کے مطابق انفرادی اور غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کے بجائے خودکار نظام پر انحصار کیا۔
دوسری جانب میٹا نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افرادی قوت سے متعلق تمام فیصلے انسانوں نے کیے، مصنوعی ذہانت نے نہیں۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق مقدمے میں لگائے گئے الزامات حقائق پر مبنی نہیں اور ان کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔
واضح رہے کہ میٹا نے رواں سال موسم بہار میں اپنے تقریباً 8 ہزار ملازمین، یعنی مجموعی ورک فورس کے لگ بھگ 10 فیصد، کو برطرف کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ وسائل کو مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کی طرف منتقل کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق میٹا رواں سال اے آئی انفراسٹرکچر پر 145 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دو گنا ہے، اور کمپنی مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔










