یورپی چیمپئن اسپین نے شاندار تکنیکی اور دفاعی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں فیورٹ فرانس کو 2-0 سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی۔
امریکا کے شہر ڈلاس کے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اہم مقابلے میں اسپین نے ابتدا ہی سے گیند پر کنٹرول برقرار رکھا اور فرانس کی خطرناک اٹیکنگ لائن کو قابو میں رکھا۔ اسپین کی منظم مڈفیلڈ اور مضبوط دفاع کے سامنے فرانسیسی حملہ آور مسلسل مشکلات کا شکار رہے۔
میچ کا پہلا گول 20ویں منٹ میں اسپین کے میکل اوئیارزابال نے پنالٹی کے ذریعے کیا۔ پنالٹی فرانس کے دفاعی کھلاڑی کی جانب سے لامین یامال کو فاؤل کیے جانے پر دی گئی، جسے اوئیارزابال نے کامیابی سے گول میں تبدیل کر دیا۔
دوسرے ہاف میں اسپین نے اپنی برتری مزید مستحکم کرتے ہوئے 58ویں منٹ میں دوسرا گول داغ دیا۔ پیڈرو پورو نے ڈینی اولمو کے ساتھ شاندار ون ٹو پاس کے بعد خوبصورت فنشنگ کرتے ہوئے گیند جال میں پہنچائی۔
فرانس، جو ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی ٹائٹل کے مضبوط امیدواروں میں شامل تھا، کپتان کائلیان ایمباپے، عثمان ڈیمبیلے اور دیگر اسٹار کھلاڑیوں کے باوجود اسپین کے دفاع کو توڑنے میں ناکام رہا۔
اسپین کے مڈفیلڈ میں روڈری، فابیان روئز اور ڈینی اولمو نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے کھیل کا رخ اپنی ٹیم کے حق میں رکھا اور فرانس کو میچ میں واپسی کا موقع نہ دیا۔
فرانس کے کوچ دیدیے دیشان نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اسپین تکنیکی طور پر بہتر ثابت ہوا اور ان کی ٹیم آج مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچ سکی۔
اسپین کے کوچ لوئس ڈی لا فوئنٹے نے کامیابی کے بعد کہا کہ ان کی ٹیم نے دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک کے خلاف بہترین کھیل پیش کیا۔
واضح رہے کہ اسپین، جو 2010 میں ورلڈ کپ جیت چکا ہے، اب فائنل میں انگلینڈ یا ارجنٹینا کا سامنا کرے گا۔ دوسری جانب فرانس کا تیسری بار عالمی چیمپئن بننے کا خواب سیمی فائنل میں ہی ختم ہو گیا۔










