انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2028 کے لیے ٹورنامنٹ فارمیٹ میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت سیمی فائنل سے قبل پہلی مرتبہ دو اضافی ناک آؤٹ میچز یعنی ایلیمینیٹرز کھیلے جائیں گے۔
آئی سی سی کے نئے فارمیٹ کے مطابق 20 ٹیموں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بدستور 55 میچز پر مشتمل ہوگا، تاہم گروپ مرحلے کے میچز کم اور دوسرے مرحلے کے مقابلے زیادہ ہوں گے۔
نئے فارمیٹ کے تحت ابتدائی مرحلے میں چار گروپس پر مشتمل پانچ ٹیموں کے بجائے چار ٹیموں پر مشتمل پانچ گروپس ہوں گے۔ ہر گروپ کی ٹاپ دو ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچیں گی، جہاں سپر 10 مرحلہ کھیلا جائے گا۔
سپر 10 مرحلے میں 10 ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں پانچ پانچ ٹیمیں شامل ہوں گی۔ ہر گروپ کی پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم براہِ راست سیمی فائنل میں پہنچ جائے گی۔
جبکہ دونوں گروپس کی دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں آپس میں کراس پول ایلیمینیٹر میچز کھیلیں گی۔ ان مقابلوں کی فاتح ٹیمیں سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی۔
آئی سی سی کے مطابق فارمیٹ میں تبدیلی کا مقصد حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ابھرتی ہوئی کرکٹ ٹیموں کی بہتر کارکردگی کو مدنظر رکھنا ہے۔ آئی سی سی نے کہا کہ نئے نظام سے زیادہ ممالک کو دوسرے مرحلے تک پہنچنے کا موقع ملے گا اور مقابلوں میں سنسنی بھی بڑھے گی۔
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ایلیمینیٹر میچز شامل کرنے سے سپر 10 مرحلے کے آخری مقابلوں کی اہمیت بڑھے گی اور غیر اہم یا “ڈیڈ ربڑ” میچز کے امکانات کم ہوں گے۔
اب تک 12 ٹیمیں 2028 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر چکی ہیں، جن میں میزبان آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے علاوہ انگلینڈ، بھارت، پاکستان، جنوبی افریقا، سری لنکا، ویسٹ انڈیز، زمبابوے، افغانستان، بنگلا دیش اور آئرلینڈ شامل ہیں۔
آئی سی سی نے باقی آٹھ ٹیموں کے انتخاب کے لیے عالمی کوالیفائر مرحلہ دوبارہ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ عالمی کوالیفائر میں 16 ٹیمیں شامل ہوں گی، جن میں آٹھ ٹیمیں وہ ہوں گی جو گزشتہ ورلڈ کپ میں شریک تھیں لیکن ابھی تک کوالیفائی نہیں کر سکیں۔
آئی سی سی کے مطابق باقی نشستیں افریقہ، ایشیا، یورپ، امریکا اور ایسٹ ایشیا پیسیفک ریجن کے کوالیفائرز کے ذریعے مکمل کی جائیں گی۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2028 اکتوبر اور نومبر میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلا جائے گا، جہاں نئے فارمیٹ کے باعث ٹورنامنٹ مزید سخت اور مقابلہ جاتی ہونے کی توقع ہے۔










