اہم ترین

ہم سمجھتے ہیں کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں میں رہنا چاہیے: چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں میں رہنا چاہیے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں اس تین رُکنی بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس پر سماعت کی۔

دوران سماعت ایک موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص کسی بھی عہدے پر ہوتا ہے وہ اپنی ذمہ داری دوسرے پر ڈال دیتا ہے، ہر آدمی اپنی جگہ کھڑا ہو کر کام کرے تو اچھا ہوگا۔پی ٹی آئی کی سابق وفاقی وزیر شیرین مزاری کی جانب سے یہ کہا گیا کہ کمیٹی کے بعد سینٹ میں جانے والا اُن کا بل غائب ہوگیا، آپ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی پر بہت بڑا الزام لگا رہے ہیں۔اگر آپ اتنا بڑا الزام لگا رہے ہیں تو آپ کی جانب سے انھیں اس کیس میں فریق کیوں نہیں بنایا گیا؟یہ تو مسنگ پرسن سے ہٹ کر اب تو مسنگ بل کا کیس بن گیا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ لاپتہ افراد کا کیس سنجیدہ نوعیت کا ہے، عدالت کا مذاق بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، کسی کے بھی ساتھ زیادتی ہو تو اُس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، ہمارے لیے ہر شہری محترم ہے چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا ہو۔’ہم اب بس اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں گے، اس معاملے کو سیاسی نا بنائیں، جو اثر و رسوخ والے لوگ ہیں وہ خود آجائیں گے۔

پاکستان