اسرائیل 7 اکتوبر کے بعد سے غزہ میں 25 ہزار سے زائد بے گناہوں کو قتل کرچکا لیکن اب تک وہ اپنے یرغمال شہریوں تک نہیں پہنچ سکا۔ جس کے بعد اب اس نے مقامی فلسطینیوں کو اس حوالے سے خبر دینے کے بدلے انعام کا لالچ دیا ہے۔
عرب نیوز چینل الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم پر ان کے وزرا، عوام اور یرغمالیوں کے اہل خانہ کا دباؤ بڑھ بہت بڑھ چکا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے غزہ میں یرغمالیوں کی معلومات دینے پرفلسطینیوں کومالی انعام اور محفوظ مستقبل کی پیش کش کردی ہے
مقبوضۃ بیت المقدس میں بجمن نتن یاہو کی رہائش گاہ کے باہر بڑی تعداد میں لوگوں نے دھرنا دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی تک وہ یہاں سے نہیں جائیں گے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ وقت گزر گیا لیکن اسرائیلی وزیراعظم ان کے مسائل نظر انداز کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں انتخابات ہونے چاہئیں تاکہ عوام اپنے نمائندے چن سکیں ۔
دوسری جانب نتن یاہو کا موقف ہے کہ جب تک اسرائیل حالت جنگ میں ہے وہاں انتخابات نہیں ہوں گے اور اسیروں کو واپس لانے کا واحد راستہ فوجی دباؤ ہے۔
یرغمالیوں کی معلومات پر انعام کی پیشکش
سات اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے افراد کی تلاش کے لیے اسرائیلی فورسز نے غزہ میں کئی طرح کے حربے استعمال کیے ہیں مگر اب تک ان کا سراغ نہیں لگاسکی۔
اس حوالے سے اسرائیلی فوج نے گزشتہ دنوں غزہ میں متعدد قبرستانوں میں قبریں بھی اکھاڑ ڈالیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ وہ جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کو تلاش کررہی ہے۔
اسی ضمن میں اسرائیلی فورسز نے غزہ میں فضا سے پمفلٹس پھینکے ہیں۔ جن میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ یرغمالیوں کی تلاش میں مدد کریں ۔ بدلے مٰں انہیں مالی امداد کے ساتھ ان کے بچوں کا محفوظ مستقبل دیا جائے گا۔
25 ہزار سے زائد شہادتیں
غزہ میں اسرائیلی بمباری میں کمی کے مطالبات اور مقبوضہ علاقوں سے صیہونی فوج کی کمی کے باوجود رواں ماہ بھی فلسطینیوں کا جانی نقصان بڑھ رہا ہے۔
غزہ میں 7 اکتوبر سے 31دسمبر تک شہدا کی تعداد 21 ہزار 978 تھی ۔ جو اب بڑھ کر 25 ہزار 105 ہوچکی ہے۔ رواں ماہ اسرائیل کی بمباری سے ہر روز اوسطاً 148 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔











