اہم ترین

ایلون مسک کی ٹیسلا کو بڑا جھٹکا، منافع میں 55 فیصد کمی

ایلون مسک کی الیکٹرک گاڑی بنانے والی مشہور زمانہ کمپنی ٹیسلا کی رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ میں خلاف توقع منافع میں کمی آئی ہے۔

ایلون مسک کی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے اپنے سہ ماہی نتائج کا اعلان کر دیا ہے اور کمپنی کی کارکردگی کے حوالے سے کوئی زیادہ اچھی خبر نہیں ہے۔ ٹیسلا کے سہ ماہی نتائج نے اس کے منافع میں بڑی کمی ظاہر کی ہے اور 2020 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کمپنی کی آمدنی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

2024 کی پہلی سہ ماہی کے لیے ٹیسلا کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ ای وی (الیکٹرک وہیکلز) مارکیٹ میں ٹیسلا کی کاروں میں دلچسپی کم ہوئی ہے۔مارچ میں ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی میں ٹیسلا کا خالص منافع 55 فیصد کم ہوکر ایک ارب 13 کروڑ ڈالر پر آ گیا ہے۔ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں یہ منافع ڈھائی ارب ڈالر سے زیادہ تھا۔

الیکٹریکل وہیکل (ای وی) کی مارکیٹ میں فروخت میں تبدیلی کی وجہ سے ٹیسلا کا منافع بھی متاثر ہوا ہے۔

پہلی سہ ماہی میں ای وی بنانے والی کمپنی ٹیسلا کی آمدنی میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ جنوری تا مارچ کے دوران کمپنی کی آمدنی 9 فیصد کم ہو کر 21.3 بلین ڈالر رہ گئی ہے جو کہ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں 23.33 بلین ڈالر تھی۔ تاہم مارکیٹ ماہرین نے اندازہ لگایا تھا کہ یہ تقریباً 22.15 بلین ڈالر ہوگا۔

کمپنی نے کہا ہے کہ ای وی مارکیٹ میں فروخت پر دباؤ دیکھا جا رہا ہے اور اس سے ٹیسلا کی فروخت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اس کی فی گاڑی اوسط آمدنی 5 فیصد کم ہو کر 44,926 ڈالر رہ گئی ہے جس کی وجہ قیمتوں میں کمی کو بھی قرار دیا گیا ہے۔

ایلون مسک کی جانب سے جیسے ہی یہ خبر آئی کہ ٹیسلا اب سستی ای وی پر بھی کام کرے گی اور نئی کم قیمت کاریں مارکیٹ میں لائے گی، کمپنی کے حصص میں 13 فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا۔ ایسی گاڑیوں کی پیداوار سال 2025 کی دوسری ششماہی میں شروع ہو سکتی ہے۔

پاکستان