اہم ترین

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو دینے کا فیصلہ معطل

سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیت کی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو دینے کا پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کر دیا۔

جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو دینے کے خلاف درخواست دائر پر سماعت کی۔

دورانِ سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ میں عوام کے ووٹوں اور مینڈیٹ کی درست نمائندگی ہونی چاہیے۔ الیکشن کمیشن نے کیا کیا ہمیں اس سے نہیں بلکہ آئین سے غرض ہے۔ قانون میں کہاں لکھا ہے کہ بچی ہوئی نشتسیں دوبارہ ان ہی سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی؟

الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایک جماعت انتخابی نشان کھونے کے بعد بھی بطور سیاسی جماعت الیکشن لڑ سکتی تھی۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائی کورٹ کا سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کی نشستیں تحریک انصاف کی بجائے دیگر جماعتوں کو دینے کا فیصلہ معطل کردیا۔

اپنے عبوری حکم نامے میں عدالت عظمیٰ نے کہا سپریم کورٹ کے حکم کا اطلاق ماضی سے نہیں بلکہ آج سے ہوگا۔ آج سے تین جون کے درمیان ان مخصوص نشستوں کے ووٹ سے کوئی نئی قانون سازی نہیں ہوسکتی۔

پاکستان