سپریم کورٹ نے 2017 میں اسلام ۤباد اور رالپنڈی کے سنگم فیض آباد پر ٹی ایلپی کے دھرنے سے متعلق کمیشن کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ لگتا ہے کہ دھرنا کمیشن کا واحد کام جنرل فیض حمید کو الزامات سے بری کرنا تھا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس پر سماعت کی۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مجھے تو اس رپورٹ پر مایوسی ہی ہوئی ہے۔ کیا یہ کمیشن وقت ہی ضائع کرتا رہا۔ کمیشن نے چھ مارچ کو 149 صفحات اور سات والیوم پر مشتمل رپورٹ جمع کرائی، جو ہماری رائے میں ٹرمز آف ریفرنس کے مطابق نہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تحریک لبیک کے کسی رکن کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ بس ایسے ہی کمیشن نے فرض کر لیا کہ احتجاج کے لیے اسلام آباد کا سفر آئین کے مطابق نہیں تھا، جب کہ سپریم کورٹ کے حکم نامہ میں لکھا تھا کہ پرامن احتجاج حق ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کہتے ہیں بس آگے بڑھو، ماضی سے سیکھے بغیر کیسے آگے جا سکتے ہیں؟ جو لوگ ماضی سے سبق نہ سیکھیں انہیں سکھایا جانا چاہیے۔کمیشن کہتا ہے دھرنا دینے والے نہیں پنجاب حکومت ذمہ دار ہے۔ کمیشن کہہ رہا ہے قانون موجود ہیں ان پر عمل کر لیں۔ یہ کہنے کے لیے کیا ہمیں کمیشن بنانے کی ضرورت تھی؟اگر 2019 والے فیصلے پر عمل کرتے تو 9 مئی بھی شاید نہ ہوتا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کمیشن لکھتا ہے آرمی کو ان معاملات سے دور رکھنا چاہیے تو معاہدے پر دستخط کیوں کیے؟بے شک اجازت بھی ہو۔ کیا اجازت تحریری تھی؟ آپ کو سیاست کرنا ہے تو اتر جائیں سیاست میں۔ ڈی جی سی نے کہہ دیا کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق ان کا کام نہیں اور کمیشن نے مان لیا۔ جنرل فیض حمید نے کہہ دیا اور کمیشن نے مان لیا۔ ان کو بلانے کی ہمت کیسے کرتے۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے مزید ریمارکس دیئے کہ انکوائری کمیشن نے کوئی فائنڈنگ دی نہ ہی ملک کو ہونے والا نقصان پر کچھ لکھا، ملک کو نقصان پہنچانا تو جیسے بنیادی حق بن گیا ہے، آگ لگاؤ، مارو پیٹو ہمارا حق ہے، یہاں ہر جگہ بس آگ لگا دو والی بات ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کمیشن کہہ رہا ہے پنجاب حکومت رانا ثنااللہ چلا رہے تھے وہی ذمہ دار ہیں، حلف کی خلاف ورزی کس نے کی یہ نہیں بتایا، کمیشن کیسے کہہ سکتا ہے کہ مظاہرین کو پنجاب میں روکنا چاہیے تھا۔ مجھے معلوم نہیں کمیشن کو کس بات کا خوف تھا۔ انکوائری کمیشن کو لگتا ہے پنجاب حکومت سے کوئی بغض ہے۔ کمیشن کی مداخلت نہ کرنے پر ساری رپورٹ پنجاب حکومت کے خلاف لکھ دی ہے۔











