عمران خان نے سپریم کورٹ میں نیب ترامیم پر عدالتی فیصلے کے خلاف درخواستوںں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے کہا کہ آپ سے بات کرنے کا موقع شاید دوبارہ نہ ملے۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سہریم کورٹ نے نیب قانون میں ترمیم کالعدم قرار دیئے جانے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔عمران خان اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شامل ہوئے۔
دوران سماعت عمران خان نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں قید تنہائی میں ہوں، مجھے تیاری کے لیے مواد ملتا ہے نہ ہی وکلا سے ملاقات کرنے دی جاتی ہے۔ اڈیالہ میں سب کچھ کرنل صاحب کنٹرول کرتے ہیں۔
وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے حقائق نہیں دیکھے، پارلیمنٹ کی قانون سازی اس طرح کالعدم قرار نہیں دی جا سکتی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا، ’وزیر اعظم نے ہمیں کالی بھیڑیں کہا، فیصلہ پسند کا آئے تو جج ٹھیک پسند کا نہ آئے تو جج کالی بھیڑیں بن جاتے ہیں؟ باقیوں کا مجھے پتہ نہیں میں اخبار، سوشل میڈیا اور ٹیلی وژن بھی دیکھتا ہوں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ جب حکومت تبدیل ہوتی ہے تو مخالفین پر مقدمات بنا دیے جاتے ہیں۔ دائیں سائیڈ والے بائیں سائیڈ جائیں تو نیب کو ان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔پارلیمنٹ اپنے مسائل خود حل کیوں نہیں کرتی؟ سپریم کورٹ میں ایسے مقدمات کیوں لائے جاتے ہیں؟ پارلیمنٹ سزا کم رکھے یا زیادہ خود فیصلہ کرے یہ اس کا کام ہے، سپریم کورٹ تو صرف قانون کے آئینی ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ لے سکتی ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’کیا نیب ترامیم سے مجرموں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے؟‘
وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ نیب ترامیم سے جرائم کی نوعیت کو واضح کیا گیا ہے۔
جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا کچھ لوگوں کی سزائیں نیب ترامیم کے بعد ختم نہیں ہوئیں؟ کیا نیب سیکشن نو اے پانچ میں تبدیلی کر کے نواز شریف کی سزا ختم نہیں کی گئی؟ نواز شریف کا کیس اثاثوں کا تھا جس میں بار بار ثبوت والی شق تبدیل کی گئی۔











