اہم ترین

کیسے فیصلہ کریں کہ کوئی ضمیر کی آواز پر ووٹ دے رہا ہے یا نہیں؟چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئین کی شق 63 اے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر دائر نظر ثانی درخواست کی سماعت کے دوران استفسار کیا ہے کہ ہم بطور جج کیسے فیصلہ کریں کہ کوئی ضمیر کی آواز پر ووٹ دے رہا ہے یا نہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سٹس امین الدین، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے آئین کی شق 63 اے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر دائر نظر ثانی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر رائے اور 184 (3) دو الگ الگ دائرہ اختیار ہیں، دونوں کو یکجا کر کے فیصلہ کیسے دیا جا سکتا ہے۔ صدراتی ریفرنس پر صرف رائے دی جا سکتی ہے فیصلہ نہیں۔اگر ریفرنس پر دی گئی رائے پر عمل نہ ہو تو صدر کے خلاف توہین کی کارروائی تو نہیں ہو سکتی۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ کیا عدالت کا فیصلہ پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بدلنے جیسا نہیں؟کسی کے ضمیر کا معاملہ طے کرنا مشکل اور حقائق پر فیصلے کرنا آسان ہوتا ہے۔اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ جو روز پارٹی تبدیل کرتے ہیں وہ ضمیر کی آواز پر فیصلہ کرتے ہیں یا بے ایمان ہیں؟

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نظرثانی کا دائرہ کار بہت محدود ہوتا ہے، فیصلے کا نتیجہ نہیں صرف وجوہات دیکھ سکتے ہیں۔نظرِ ثانی منظور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ فیصلہ غلط ہے، وجوہات غلط ہوتی ہیں۔

پاکستان