بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے 23 دسمبر 2024 کو بھارتی حکومت کو ایک سفارتی نوٹ بھیجا تھا، جس میں ملک کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بھارت شیخ حسینہ کی حوالگی کی درخواست پر کوئی کارروائی کرنے کے موڈ میں نہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ نے حوالگی کی درخواست کے جواب میں اپنے اگلے اقدامات کی وضاحت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بنگلا دیش میں بھارت کے سابق ہائی کمشنر پنک رنجن چکرورتی نے کہا ہے کہ بنگلا دیش شیخ حسینہ کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کو ایسے شواہد پیش کرنے ہوں گے جن سے یہ ثابت ہو کہ وہ شیخ حسینہ کے خلاف جو الزامات لگا رہے ہیں وہ درست ہیں۔ حوالگی ایک عدالتی عمل ہے، اس لیے یہ ضروری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ حوالگی کے معاہدے کی ان شقوں کا بھی احترام کیا جانا چاہیے جو غیر جانبداری اور سلامتی پر زور دیتے ہیں۔
پنک رنجن چکرورتی نے کہا شیخ حسینہ نے جب بنگلا دیش چھوڑا تو ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں تھا جس کی وجہ سے حوالگی کا معاملہ پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ کیا ایک غیر آئینی عبوری حکومت کسی ایسے وزیر اعظم کی حوالگی کا مطالبہ کر سکتی ہے جسے فوج نے زبردستی ملک بدر کیا تھا لیکن اس نے استعفیٰ نہیں دیا؟ کیا آئی سی ٹی کے پاس 1971 کی نسل کشی سے متعلق جرائم کے لیے وارنٹ گرفتاری ہونا چاہیے؟ کیا اسے جاری کرنے کا اختیار ہے؟
شیخ حسینہ کا کیس بنگلا دیش کی جمہوریت سے جڑا ہوا ہے
محمد یونس کی قیادت میں بنگلا دیش کی عبوری حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ وہ شیخ حسینہ کو مقدمے کا سامنا کرنے کو یقینی بنانے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالتی رہے گی۔
عبوری حکومت کے مشیر محفوظ عالم کے مطابق پورا بنگلا دیش چاہتا ہے کہ شیخ حسینہ کو ان کے دور حکومت میں کیے گئے جرائم کے لیے ٹرائل کا سامنا کرنا پڑے۔ شیخ حسینہ کا ٹرائل بنگلا دیش کی جمہوریت سے جڑا ہے۔
بنگلہ دیشی سیاسی تجزیہ کار زاہد الرحمان نے کہا کہ یہ تقریباً یقینی ہے کہ بھارت شیخ حسینہ کو واپس نہیں بھیجے گا۔ وہ جانتا ہے کہ بنگلا دیش میں شیخ حسینہ کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی کوشش سے لوگوں میں غصہ، ناراضگی اور نفرت میں مزید اضافہ ہو گا، جس سے ان کا اقتدار میں رہنا ناممکن ہو جائے گا۔
بنگلا دیش کی سپریم کورٹ کی وکیل رشنا امام نے کہا کہ بھارت ممکنہ طور پر حسینہ کی حوالگی کا خواہاں نہیں کیونکہ وہ سپر پاور بننے کے لیے چین سے مقابلہ کر رہا ہے اور علاقائی سطح پر اس طرح کا غلبہ حاصل کرنے سے بھارت کے لیے راستہ صاف ہو جائے گا۔
رشنا امام نے کہا کہ حسینہ نے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے بھارت کی حمایت کے بدلے کئی طریقوں سے بنگلا دیش کے مفادات سے سمجھوتہ کیا ہے۔ بھارت کو تشویش ہے کہ اگر وہ حسینہ کو حوالے کرتا ہے، تو یہ اس کے موجودہ اور مستقبل کے اتحادیوں کو خطرے میں ڈال دے گا، اس سے یہ پیغام جائے گا کہ ہندوستان وقت آنے پر وعدے پورے نہیں کرے گا۔











