اہم ترین

سیلاب جنوبی پنجاب داخل؛سندھ حکومت کی شہریوں سےنقل مکانی کی اپیل

وسطی پنجاب میں تباہی پھھیلانے کے بعد راوی، ستلج اور چناب کے سیلابی ریلے جنوبی پنجاب میں داخل ہوگئے ہیں۔ جبکہ سندھ سے اگلے 48 سے 72 گھنٹے بعد 13 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے۔

ننکانہ صاحب میں دریائے راوی میں ہیڈبلوکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، سیلاب سے قریبی علاقے زیر آب آگئے ہیں، سیلاب متاثرین کا شکوہ ہے کہ انہیں ابھی تک کوئی امداد نہیں پہنچی۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق ملتان میں دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہوگئی، اکبر فلڈ بند کے قریب ہیڈ محمد والا روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے، پانی زیادہ ہونے کی صورت میں بند پر شگاف ڈالا جائے گا، جس کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔

بہاولنگر میں دریائے ستلج میں آنے والے بڑے سیلابی ریلے سے چاویکا بہادر کا بند ٹوٹنے سے متعدد بستیاں پانی کی لپیٹ میں آگئیں اور مرکزی شاہراہ میں پانی موجود ہونے سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب فواد ہاشم ربانی نے مظفرگڑھ کا ہنگامی دورہ کیا، اور دریائے چناب کے کنارے دوآبہ کے مقام پر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ لیا، انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی انتظامیہ اور عوام کو سیلاب کے چیلنج کا سامنا ہے۔

دوسری جانب سندھ کے 3 بیراجوں پر بدستور نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔

سندھ کے مختلف اضلاع کے کچے کے علاقوں میں سیلابی صورتحال کے بعد لوگوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی جاری ہے۔

گھوٹکی میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافے سے کچے کے متعدد دیہات زیر آب ہیں، لوگوں کی کشتیوں پر محفوط مقامات پر نقل مکانی جاری ہے۔

سیہون میں بھی دریائے سندھ کے پانی نے کچے کے مختلف دیہات کو ڈبو دبا ہے۔

نوشہروفیروز میں دریائے سندھ میں مسلسل پانی کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے، دریائے سندھ کے حفاظتی پشت ایس ایم بچاؤ بند پر پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، متعدد دیہات زیر آنے کے بعد مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔

پاکستان