حماس نے امریکی صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے چند نکات کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو غزہ کی پٹی پر بمباری روکنے کا حکم دیا ہے۔
سعودی عرب کی اردفو نیوز ویب سائیٹ اردو نیوز کے مطابق حماس کا کہنا ہے کہ وہ یرغمالیوں کو رہا کرنے اور اقتدار دیگر فلسطینیوں کو سونپنے کے لیے تیار ہے تاہم منصوبے کے دیگر پہلوؤں پر مشاورت کی ضرورت ہے۔
حماس کے سینیئر رہنماؤں نے عندیہ دیا ہے کہ اب بھی کئی بڑے اختلافات باقی ہیں جن پر مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کے ردعمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میرا یقین ہے کہ وہ دیرپا امن کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیل کو فوراً غزہ پر بمباری بند کرنی چاہیے تاکہ ہم یرغمالیوں کو بحفاظت اور فوری طور پر نکال سکیں۔ اس وقت ایسا کرنا بہت خطرناک ہے۔ ہم پہلے ہی اس حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ میں امن کے لیے حماس کے ردعمل کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’الحمدللہ، ہم جنگ بندی کے اُس مقام کے قریب ہیں جہاں ہم اس نسل کُشی کے آغاز کے بعد سے کبھی نہیں پہنچے تھے، پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہنے کا عزم رکھا ہے اور ہمیشہ اُن کے ساتھ کھڑا رہے گا‘۔











