اہم ترین

پنجاب حکومت کا ٹی ایل پی پر پابندی اور اثاثے ضبط کرنے کے لئے وفاق کو درخواست

پنجاب حکومت نے ’ریاستی رِٹ اور قانون کی بالادستی‘ قائم کرنے کے لیے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیرِصدارت امن و امان پر غیرمعمولی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت وفاقی حکومت کو انتہا پسند جماعت پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرے گی۔

https://twitter.com/pmln_org/status/1978708002040402401/photo/1

بیان کے مطابق دیگر فیصلوں میں پنجاب میں نفرت انگیزی، اشتعال انگیزی اور قانون شکنی میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری اور پولیس افسران کی شہادت اور سرکاری املاک کی تباہی میں ملوث رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمات چلانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ انتہا پسند جماعت کی قیادت کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا اور ان کی تمام جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کے حوالے کیے جائیں گے۔ غیر قانونی تارکین وطن کے لیے وسل بلوئر سسٹم متعارف کرایا جائے گا، اطلاع دینے والے کا نام مکمل رازداری میں رکھا جائے گا۔

وزیراعلٰی کے زیرِصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹی ایل پی کے پوسٹرز، بینرز اور اشتہارات پر مکمل پابندی ہو گی اور نفرت پھیلانے والے انتہا پسند جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے جائیں گے۔انتہا پسند جماعت کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر سخت ترین کارروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

پاکستان