وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر افغانستان کے ساتھ معاملات طے نہ ہوئے تو جنگ ہی ہو گی۔
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ 40 سال سے ہم افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں، تقریبا 40 لاکھ ہی افغان باشندے یہاں مقیم رہے، جہاں ایک قوم نے آپ کی اتنی مہمان نوازی کی ہو، آپ کا ہمسائیہ ہو، ایک مذہب کے ماننے والے ہوں، تو کیا آپ اس قوم کیخلاف بھی دہشت گردی کو سپورٹ کریں گے ؟ اس سے زیادہ دکھ کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ ترکیہ میں 2 گھنٹے قبل ایک میٹنگ ہوئی، جس کے نتائج کل تک سامنے آجائیں گے۔ اگر افغانستان کے ساتھ معاملات طے نہ ہوئے تو جنگ ہی ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ میری خوش فہمی نہ ہو تو وہ لوگ امن چاہتے ہیں اور ہم بھی امن کے خواہشمند ہیں، کن شرائط پر امن ہوگا، کچھ باتیں قطر میں واضح ہوئیں، کچھ ترکیہ ہو جائیں گی، امید ہے معاہدہ ضرور ہوگا۔











