مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور وزیرِاعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ نے ایک مرتبہ پھر حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مسائل کا حل صرف سیاسی مکالمے میں ہے۔
فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف پہلے ہی تمام جماعتوں کو میثاقِ استحکامِ پاکستان میں شامل ہونے کی غیر مشروط دعوت دے چکے ہیں۔
پی ٹی آئی کے باضابطہ بائیکاٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کبھی حقیقی سیاست نہیں کی۔ ملک کی بدقسمتی ہے کہ انہیں اقتدار میں لایا گیا، جبکہ جمہوریت آگے بڑھنے کے لیے مکالمے کی متقاضی ہوتی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے عمران خان پر ہمیشہ ڈیڈلاک پیدا کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ جیل میں بیٹھا ایک شخص ملک میں انتشار اور انارکی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کی مثالیں 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ہفتوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے کیونکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات لگتے رہے۔ حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی کی قیادت بھی کہہ چکی ہے کہ حکومت یا عسکری قیادت کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔
رانا ثناء اللہ نے سیاسی مداخلتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو دوبارہ 1999 یا 2017/18 جیسے حالات سے نہیں گزرنا چاہیے، جب سازشوں نے سیاسی نفرت کے ماحول کو جنم دیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ سات انتخابات لڑ چکے ہیں جن میں سے پانچ میں کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق ووٹنگ اور گنتی کا عمل سب کے سامنے ہے، اس لیے بلاوجہ رونا دھونا کرنے والوں کی باتوں کی کوئی حیثیت نہیں۔
رانا ثناء اللہ کےمطابق مریم نواز شریف کی قیادت میں ترقی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوچکا ہے۔ فیصل آباد میں 70 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے انتخابی ضابطہ اخلاق کے احترام میں مؤخر کیے گئے ہیں تاکہ یہ تاثر نہ ملے کہ منصوبے صرف ووٹ لینے کے لیے شروع کیے جا رہے ہیں۔











