اہم ترین

ایپل سی ای او ٹم کُک کے استعفیٰ کی خبریں: حقیقت سامنے آگئی

دنیا بھر میں مقبول آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کُک کے عہدہ چھوڑنے سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کو غلط قرار دے دیا گیا ہے۔

ٹیک ویب سائیٹس پر گزشتہ چند ماہ سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کُک چند ماہ میں اپنی پوزیشن چھوڑ سکتے ہیں، تاہم معروف ٹیک صحافی مارک گورمن نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے۔

بلومبرگ کے رپورٹر مارک گورمن نے اپنے نیوز لیٹر میں لکھا کہ اگلے سال جولائی تک ٹم کُک کے سی ای او کا عہدہ چھوڑنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کُک واقعی اتنی جلدی عہدہ چھوڑ دیں تو مجھے بہت حیرت ہوگی۔

مارک گورمن کا کہنا تھا کہ ٹم کُک نے ایپل کو غیر معمولی ترقی دلائی ہے، اور ایسے میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار انہیں ہی ہونا چاہیے۔ اگر وہ آئندہ سال یا مستقبل میں عہدہ چھوڑتے بھی ہیں تو یہ امکان موجود ہے کہ وہ کمپنی کے چیئرمین کے طور پر برقرار رہیں۔

ٹم کُک نے تقریباً 14 سال پہلے ایپل کے بانی اسٹیو جابز سے کمپنی کی قیادت سنبھالی تھی۔ ان کی سربراہی میں ایپل کی مارکیٹ ویلیو 350 ارب ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 4 ٹریلین ڈالر (چار ہزار ارب ڈالر) تک جا پہنچی ہے۔ آئی فون کے ساتھ ساتھ آئی پیڈ، میک بک اور دیگر پروڈکٹس کی فروخت میں بھی بھرپور اضافہ ہوا۔

ایک حالیہ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایپل نے ٹم کُک کی جگہ نئے چیف ایگزیکٹو کی تلاش شروع کر دی ہے اور ممکنہ طور پر کمپنی کے اندر سے ہی کسی سینئر ایگزیکٹو کو منتخب کیا جائے گا، تاہم اس پر بھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

ایپل کے سینئر وائس پریزیڈنٹ (ہارڈویئر انجینئرنگ) جان ٹرنس کو ٹم کُک کے بعد سی ای او کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ وہ گزشتہ 24 سال سے ایپل میں مختلف کلیدی ذمہ داریاں سنبھالتے آ رہے ہیں۔

ٹیک ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال ٹم کُک کے جانے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، اور ایپل کی مضبوط قیادت مستقبل قریب میں تبدیل ہونے کے امکانات کم ہیں۔

پاکستان