اہم ترین

بھارت میں مودی پالیسیوں پر بڑھتی بے چینی: کسانوں کا ریل روکو احتجاج

پنجاب میں کسان مزدور مورچہ (کے ایم ایم) نے 5 دسمبر 2025 کو ریاست بھر میں دو گھنٹے کے ریل روکو احتجاج کا اعلان کیا، جس نے نہ صرف مقامی انتظامیہ بلکہ ریاستی حکومت کی پالیسیوں پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دوپہر ایک سے تین بجے تک مختلف اضلاع میں کسانوں کے ریلوے ٹریکس پر بیٹھنے سے ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی، جس کا اثر پنجاب کے ساتھ ساتھ پڑوسی ریاستوں تک محسوس کیا گیا۔

احتجاج پنجاب کے 19 اضلاع اور 26 مقامات پر ہوا، جن میں امرتسر، جالندھر، لدھیانہ، بھٹنڈہ، پٹیالہ، فاضلکا اور موگا جیسے اہم اضلاع شامل تھے۔ ریل ٹریفک میں خلل سے واضح ہوتا ہے کہ کسانوں کی ناراضی صرف چند علاقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ریاست بھر میں عدم اطمینان بڑھ چکا ہے۔

کے ایم ایم کا کہنا ہے کہ حکومت کی حالیہ پالیسیوں نے کسان، مزدور اور عام صارفین سب کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ تنظیم نے خاص طور پر بجلی ترمیمی بل 2025 کو کسان دشمن قرار دیتے ہوئے فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ بل زرعی شعبے پر اضافی بوجھ ڈالے گا اور پیداواری اخراجات مزید بڑھا دے گا۔

اسی کے ساتھ پری پیڈ بجلی میٹروں کی تنصیب کو بھی کسانوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ یہ نظام غریب صارفین کے لیے ناقابل برداشت بنتا جا رہا ہے، کیونکہ پری پیڈ میٹر نہ صرف خرچ بڑھاتے ہیں بلکہ کسانوں کے لیے بجلی کی مسلسل دستیابی بھی غیر یقینی بنا دیتے ہیں۔

کسان رہنما سرون سنگھ پنڈھیر نے کہا ہے کہ حکومت کئی مہینوں سے کسانوں کی بات سننے کو تیار نہیں، جس کی وجہ سے احتجاج جیسے اقدامات اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ریل روکو صرف ایک وارننگ ہے، اور اگر حکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی تو تحریک کو مزید بڑا کیا جائے گا۔

مبصرین کے مطابق احتجاج کا دائرہ پھیلنے کا خطرہ موجود ہے کیونکہ ریاستی عوامی اثاثوں کی ممکنہ فروخت، نجکاری کی رفتار اور عوامی خدمات کی مہنگائی پہلے ہی لوگوں میں بے چینی پیدا کر رہی ہے۔ ٹریکس پر دھرنے کی وجہ سے ٹرینوں کی تاخیر اور منسوخی نے مسافروں کو مشکلات میں ڈال دیا، جس سے عوامی ناراضی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

ریاستی حکومت پر تنقید بڑھ رہی ہے کہ اس نے کسانوں کے خدشات کو نظرانداز کیا اور مذاکرات میں سنجیدگی کا فقدان دکھایا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر پالیسیوں کا جائزہ نہ لیا تو پنجاب میں احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

پاکستان