برطانیہ میں مذہبی تبدیلی کے رجحانات تیزی سے بدل رہے ہیں اور نئی تحقیق کے مطابق ان تبدیلیوں کا مرکز مذہبِ اسلام بنتا جا رہا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار دی امپیکٹ آف فیتھ اِن لائف (آئی آئی ایف ایل ) کی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح برطانیہ میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد اسلام کی جانب راغب ہو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ادارے نے 2774 ایسے افراد کا سروے کیا جنہوں نے حالیہ برسوں میں اپنا مذہب چھوڑا یا تبدیل کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اسلام قبول کرنے والوں کے لیے عالمی تنازعات سب سے نمایاں وجہ ہیں۔ خاص طور پر اسرائیل-غزہ تنازع (2023-24) کے دوران مغربی ممالک میں اسلام قبول کرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا، اور یہ رپورٹ اسی رجحان کی تصدیق کرتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں عیسائی آبادی پہلی بار 50 فیصد سے کم ہو گئی ہے۔ او این ایس کی 2021 مردم شماری کے مطابق صرف 46.2 فیصد افراد نے خود کو عیسائی قرار دیا، جو 2011 کے مقابلے میں 13 فیصد کمی ہے۔ مذہب چھوڑنے والوں میں بھی زیادہ تعداد سابق عیسائیوں کی ہے، جن میں سے 44 فیصد نے چرچ سے دوری اختیار کر لی۔
اسلام قبول کرنے والوں میں 18 فیصد نے ذہنی صحت سے متعلق مسائل کو اپنی بڑی وجہ بتایا۔ ان کے مطابق صدمے، تناؤ اور زندگی میں بڑے چیلنجز کے دوران اسلام نے انہیں ایک واضح اور جامع راستہ فراہم کیا۔
رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ عیسائی مذہب اپنانے والوں میں سب سے بڑی وجہ اپنے پیاروں کی موت اور کووڈ-19 کے دوران ہونے والے نقصانات تھے۔ 31 فیصد نے اس صدمے کو چرچ کی طرف واپسی کا سبب بتایا، جب کہ 23 فیصد نے ذہنی دباؤ کو وجہ قرار دیا۔
ہندو، بدھ اور سکھ مذہب کی جانب رجوع کرنے والوں میں زیادہ تر افراد نے ذہنی سکون کی تلاش کو بنیادی محرک بتایا۔ 35 فیصد کے مطابق یوگا، مراقبہ اور مائنڈفلنیس جیسے ویلنیس طریقوں نے انہیں ان مذاہب کی طرف مائل کیا۔











