مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کہتےہیں کہ ریاست مخالف تحریک کے لیے کسی قیدی سے ملاقاتیں نہیں ہو سکتیں۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ جمہوریت کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت ضروری ہے، نہ کہ ڈیڈلاک۔ وزیر اعظم نے دو مرتبہ پارلیمنٹ کے فلور پر بیٹھ کر بات چیت کرنے کی پیشکش کی، یہاں تک کہ اسپیکر کے چیمبر میں بیٹھنے کی دعوت بھی دی۔
رانا ثناءاللہ نے مزید کہا کہ 14 اگست کو وزیر اعظم نے کہا تھا کہ آئیں اور میثاق استحکام پاکستان مکمل کر لیں، لیکن پی ٹی آئی کی قیادت باضابطہ طور پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے مطابق جن سے بات کرنے کو کہا جاتا ہے، وہ لوگ گفتگو کے لیے رضامند نہیں ہیں۔
عمران خان سے جیل میں ملاقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں کے کچھ امور پہلے سے طے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ تین روز قبل ایک ملاقات ان کی بہن کے ساتھ ہوئی تھی، جس میں بیرونِ قیدی گفتگو کی گئی۔ رانا ثناءاللہ نے واضح کیا کہ کسی قیدی کو ریاست کے خلاف تحریک چلانے کے لیے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
رانا ثناءاللہ نے کہا کہ مذاکرات کا آپشن آج بھی موجود ہے اور اگر بیٹھ کر بات چیت کی جائے تو مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔











