اہم ترین

ویکسینز سے آٹزم کے خطرات کی باتیں گمراہ کن ہیں: عالمی ادارۂ صحت

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیوایچ او) نے اپنی نئی تحقیق میں ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ ویکسین اور آٹزم کے درمیان کوئی تعلق موجود نہیں۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں کچھ حلقے ویکسینز کے بارے میں گمراہ کن نظریات پھیلا رہے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق جنیوا میں ڈبلیوایچ اوکے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ عالمی ماہرین کی کمیٹی نے 15 سال کے دوران مختلف ملکوں میں ہونے والی 31 سائنسی تحقیقات کا جائزہ لیا، جن میں تھائیومرسال اور ایلومینیم والے ویکسین فارمولے بھی شامل تھے۔ کمیٹی نے واضح نتیجہ دیا کہ ویکسینز سے آٹزم نہیں ہوتا۔

یہ ڈبلیوایچ او کا اس موضوع پر چوتھا بڑا جائزہ ہے۔ اس سے پہلے بھی 2002، 2004 اور 2012 میں یہی نتیجہ سامنے آیا تھا کہ ویکسینز آٹزم کا سبب نہیں بنتیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ویکسینز کے کچھ سائیڈ ایفیکٹس ہو سکتے ہیں، لیکن آٹزم ان میں شامل نہیں۔

آٹزم اور ویکسین کے درمیان تعلق کا افسانہ 1998 کی ایک جعلی اور غلط ثابت ہونے والی ریسرچ سے شروع ہوا تھا، جسے بعد میں واپس لے لیا گیا۔ اس کے باوجود یہ غلط تصور کئی سالوں سے بعض حلقوں میں زندہ ہے۔

ڈبلیوایچ او کا کہنا ہے کہ ویکسینز نے دنیا بھر میں بچوں کی اموات میں بڑی کمی کی ہے۔ گزشتہ 25 برسوں میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات ایک کروڑ سے گھٹ کر 48 لاکھ سالانہ رہ گئی ہیں اور اس بہتری میں ویکسینز کا سب سے اہم کردار ہے۔

ٹیڈروس نے کہا کہ ویکسینز انسانیت کی تاریخ کی سب سے طاقتور اور زندگی بچانے والی دریافتوں میں سے ایک ہیں۔

پاکستان