سال کے اختتام پر کرپٹو کرنسی بٹ کوائن میں آنے والی شدید گراوٹ نے ان کمپنیوں کو سخت دھچکا پہنچایا ہے جنہوں نے اس ڈیجیٹل اثاثے پر بھاری سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔ بٹ کوائن پر انحصار کرنے والی کئی کمپنیوں کے شیئرز تیزی سے گر گئے جبکہ مارکیٹ میں ایک نئی بٹ کوائن ببل کے خدشات نے جنم لے لیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق اس سال بٹ کوائن نے زبردست تیزی دکھائی اور اکتوبر میں اس کی قیمت 1 لاکھ 26 ہزار ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی۔
کمپنیوں نے اسے اپنے کیش ریزروز کو متنوع بنانے، مہنگائی سے بچاؤ اور زیادہ منافع کے خواہشمند سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے خریدا۔
کچھ کمپنیاں پہلے ہی کرپٹو سیکٹر سے وابستہ تھیں، جیسے بٹ کوائن ایکسچینجز اور مائننگ کمپنیاں، جبکہ کئی غیر متعلقہ شعبوں کی کمپنیوں نے بھی اس دوڑ میں شمولیت اختیار کر لی۔
بٹ کوائن خریدنا خطرناک کیوں ثابت ہوا؟
متعدد کمپنیوں نے بٹ کوائن خریدنے کے لیے قرض لیا، اس امید پر کہ قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں گی۔
کئی اداروں نے کنورٹیبل بانڈز کے ذریعے سرمایہ حاصل کیا، جن میں کم سود کے بدلے قرض دہندگان کو شیئرز میں ادائیگی کا اختیار دیا جاتا ہے۔ تاہم بٹ کوائن کی قیمت گرنے کے بعد کمپنیوں کے شیئرز بھی نیچے آ گئے، جس پر سرمایہ کاروں نے نقد ادائیگی کا تقاضا شروع کر دیا، یوں کئی کمپنیاں لیکویڈیٹی بحران کا شکار ہو گئیں۔
قیمت گری تو کیا ہوا؟
موسمِ گرما کے بعد بٹ کوائن کی قیمتیں گرنا شروع ہوئیں اور نومبر میں یہ 90 ہزار ڈالر سے بھی نیچے آ گئی۔ نیٹکسس بینک کے ماہر ایرک بینوا کے مطابق مارکیٹ میں فوری سوال اٹھا کہ کیا یہ کمپنیاں دیوالیہ ہو سکتی ہیں؟
یونیورسٹی آف سسیکس کی پروفیسر کیرول الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال، سائبر حملے اور فراڈ کے خدشات نے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید کمزور کر دیا ہے۔
اسٹریٹیجی کمپنی کے ساتھ کیا ہوا؟
سافٹ ویئر کمپنی اسٹریٹیجی اس وقت دنیا کی سب سے بڑی بٹ کوائن رکھنے والی کمپنی ہے، جس کے پاس 6 لاکھ 71 ہزار سے زائد بٹ کوائن موجود ہیں۔ تاہم صرف چھ ماہ میں اس کے شیئرز کی قیمت آدھی سے بھی کم ہو گئی، اور ایک موقع پر کمپنی کی مارکیٹ ویلیو اس کے بٹ کوائن اثاثوں سے بھی کم ہو گئی۔
کمپنی نے سرمایہ کاروں کو مطمئن کرنے کے لیے نئے شیئرز جاری کر کے 1.44 ارب ڈالر کا ریزرو فنڈ قائم کیا۔
دوسری جانب سیمی کنڈکٹر کمپنی سیکوانز نے قرض اتارنے کے لیے 970 بٹ کوائن فروخت کر دیے۔
کیا بحران پھیل سکتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مزید کمپنیاں بٹ کوائن فروخت کرنے پر مجبور ہوئیں تو قیمتوں میں مزید کمی آ سکتی ہے۔ البتہ اس کے اثرات زیادہ تر کرپٹو مارکیٹ تک محدود رہنے کا امکان ہے، روایتی مالیاتی نظام کو بڑا خطرہ لاحق نہیں۔
جاپان کی کمپنی میٹا پلانٹ کے ماہر ڈیلن لی کلیر کے مطابق: بٹ کوائن کی اتار چڑھاؤ ہی اس کا اصل مزاج ہے، اور یہی طویل مدتی فائدے کی قیمت ہے۔
مستقبل کیا کہتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن پر انحصار کرنے والی کمپنیوں کو صرف قیمت بڑھنے پر نہیں بلکہ اس سے آمدن پیدا کرنے کے نئے طریقے تلاش کرنا ہوں گے۔
فرانسیسی کاروباری شخصیت ایرک لارشیوک کے مطابق قیمتوں میں کمی دراصل ایک موقع ہے ، سستا بٹ کوائن خریدنے کا یہ بہترین وقت ہے۔











