برطانیہ نے غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی میں عدم تعاون پر ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کے خلاف سخت اقدام کرتے ہوئے ویزا پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ انگولا اور نمیبیا نے اپنے شہریوں کو واپس لینے کے لیے تعاون بڑھانے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
برطانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق کانگو حکومت برطانیہ کی نئی امیگریشن پالیسی کے تحت مطلوبہ تعاون میں ناکام رہی، جس کے بعد اسے فاسٹ ٹریک ویزا سہولت اور وی آئی پی ویزا مراعات سے محروم کر دیا گیا ہے۔
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے خبردار کیا ہے کہ اگر کانگو نے فوری طور پر تعاون نہ کیا تو تمام ویزے مکمل طور پر معطل کیے جا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ملک کا شہری برطانیہ میں رہنے کا حق نہیں رکھتا تو اس ملک کو اسے واپس لینا ہوگا۔ قوانین سب کے لیے برابر ہیں۔ اب کانگو کے پاس دو ہی راستے ہیں، یا وہ اپنے شہری واپس لے یا برطانیہ میں داخلے کی سہولت کھو دے۔
یہ اقدامات برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر کی حکومت کی جانب سے گزشتہ ماہ متعارف کرائی گئی امیگریشن اصلاحات کا حصہ ہیں، جن کا مقصد غیر قانونی مہاجرین کی آمد روکنا اور ملک بدری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت پناہ گزین کا اسٹیٹس عارضی ہوگا، ہر 30 ماہ بعد اسٹیٹس کا جائزہ لیا جائے گا اور حالات محفوظ ہونے پر پناہ گزینوں کو واپس بھیج دیا جائے گا، مستقل رہائش کے لیے درخواست 5 کے بجائے 20 سال بعد دی جا سکے گی
حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ قانون سازی کرے گی تاکہ غیر قانونی تارکینِ وطن اور غیر ملکی مجرم یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کا سہارا لے کر ملک بدری نہ روک سکیں۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 39 ہزار سے زائد افراد غیر قانونی طریقے سے برطانیہ پہنچے۔ حکام کو جون 2025 تک ایک سال میں 1 لاکھ 11 ہزار پناہ کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
سابق لیبر لیڈر جیرمی کوربن نے پالیسی کوظالمانہ اور نسل پرست دائیں بازو کو خوش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ریفیو جی کونسل کے سربراہ اینور سولومن نے خبردار کیا کہ یہ اقدامات نہ تو کشتیوں کی آمد روکیں گے اور نہ ہی انسانی بحران حل کریں گے۔











