آئی پی ایل ٹیموں کے لیے حال ہی میں ہونے والی کھلاڑیوں کی نیلامی ایک نئے سیاسی تنازع کا باعث بن گئی ہے۔ نیلامی کے دوران بالی وُڈ اداکار شاہ رخ خان کی ٹیم نے بنگلہ دیش کے تیز گیند باز مستفیض الرحمان کو 9.2 کروڑ بھارتی روپے میں خریدا، جس پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک رہنما نے سخت ردعمل دیا ہے۔
بی جے پی کے رہنما اور اتر پردیش کی قانون ساز اسمبلی کے سابق رکن سنگیت سوم نے شاہ رخ خان کو ’’غدار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کو بھارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ بیان انہوں نے اپنی جماعت کے ایک اجلاس کے دوران دیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا اور بھارتی میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہو رہی ہے۔
سنگیت سوم نے اپنے بیان میں بنگلہ دیش میں مبینہ طور پر ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف مظالم کا حوالہ دیتے ہوئے شاہ رخ خان پر تنقید کی۔ وائرل ویڈیو میں بی جے پی رہنما کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ اگر مستفیض الرحمان جیسے کھلاڑی کھیلنے کے لیے بھارت آئے تو وہ ایئرپورٹ کے باہر قدم تک نہیں رکھ پائیں گے اور یہ بات وہ دعوے کے ساتھ کہہ رہے ہیں۔
بی جے پی رہنما نے مزید کہا کہ شاہ رخ خان جیسے لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ انہوں نے جو مقام اور دولت حاصل کی ہے، وہ بھارت کے عوام کی بدولت ہے۔ ان کے مطابق ’’یہاں کے لوگوں کے پیسے سے کما کر اگر کوئی ملک کے ساتھ غداری کرے تو اسے اس کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔‘‘
دوسری جانب کانگریس پارٹی کے رہنما سریندر راجپوت نے بی جے پی کے اس مؤقف پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے جوابی بیان میں کہا کہ الزام لگانے کے بجائے بی جے پی کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے بقول ’’اصل میں غداری کی سیاست یہی جماعت کر رہی ہے۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کھیل اور سیاست کے امتزاج پر پہلے ہی بھارت میں بحث جاری ہے، اور اس تازہ بیان نے ایک بار پھر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔











