امریکا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج کوائن بیس پر ہونے والے تاریخ کے بڑے سائبر حملے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ اس حملے میں مبینہ طور پر ملوث کمپنی کے ایک سابق کسٹمر سروس ایجنٹ کو بھارتی شہر حیدرآباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ٹیک کرنچ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس سائبر حملہ رواں سال مئی میں سامنے آیا تھا، جس کے نتیجے میں کوائن بیس کو 40 کروڑ ڈالر تک کے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ ہیکرز نے نہ صرف حساس کسٹمر ڈیٹا چرایا بلکہ کمپنی سے دو کروڑ ڈالر تاوان بھی طلب کیا تھا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کوائن بیس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر برائن آرم اسٹرانگ نے کہا کہ کمپنی بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی رکھتی ہے۔ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لاتے رہیں گے۔
کوائن بیس کے مطابق ہیکرز نے امریکا سے باہر کام کرنے والے کنٹریکٹرز اور ملازمین کو رشوت دے کر صارفین کا خفیہ ڈیٹا حاصل کیا۔ تاہم کمپنی نے دباؤ کے باوجود ہیکرز کو تاوان ادا کرنے سے انکار کر دیا اور متاثرہ صارفین کو نقصان کی مکمل تلافی کا اعلان کیا۔
کمپنی نے اس کے ساتھ ہی ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ تاوان دینے کے بجائے دو کروڑ ڈالر کا انعامی فنڈ قائم کر رہی ہے، جو اس سائبر حملے میں ملوث مجرموں کی گرفتاری اور ان کے خلاف شواہد فراہم کرنے والوں کو دیا جائے گا۔











