افغانستان کے تجربہ کار آل راؤنڈر محمد نبی بنگلا دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) میں ایک تاریخی کارنامہ انجام دینے کے بعد اس وقت سرخیوں میں ہیں، مگر اس بار وجہ خوشگوار نہیں بلکہ ایک تلخ پریس کانفرنس بنی، جہاں وہ ایک سوال پر اچانک غصے میں آ گئے۔
محمد نبی اس وقت بی پی ایل میں نوآکھالی ایکسپریس کی نمائندگی کر رہے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے اپنے 19 سالہ بیٹے حسن عیسیٰ خیل کے ساتھ ایک ہی میچ میں بیٹنگ کر کے کرکٹ تاریخ میں نیا باب رقم کیا۔ یہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پہلی بار ہوا کہ باپ اور بیٹا ایک ساتھ بیٹنگ کرتے نظر آئے۔
11 جنوری کو ڈھاکا کیپیٹلز کے خلاف میچ میں محمد نبی اور ان کے بیٹے حسن عیسیٰ خیل نے چوتھی وکٹ کے لیے 53 رنز کی شراکت قائم کی، جو نوآکھالی ایکسپریس کی جانب سے اس وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت داری بن گئی۔
حسن عیسیٰ خیل نے اوپننگ کرتے ہوئے 60 گیندوں پر 92 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں 5 چھکے اور 7 چوکے شامل تھے۔ یہ ٹی ٹوئنٹی میں نوآکھالی ایکسپریس کے کسی بھی بلے باز کی سب سے بڑی انفرادی اننگز ہے۔
تاریخ رقم کرنے کے بعد جب محمد نبی پریس کانفرنس کے لیے آئے تو ایک صحافی نے ان سے بنگلا دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالے جانے کے بی سی سی آئی کے فیصلے پر سوال کر دیا۔ یہی سوال محمد نبی کو ناگوار گزرا۔
سوال سنتے ہی محمد نبی برہم ہو گئے اور سخت لہجے میں کہا کہ اس سوال کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟ میرا مصطفیٰ زور رحمان سے کیا لینا دینا؟ یہ معاملہ مجھ سے متعلق ہی نہیں تو میں جواب کیوں دوں؟
ان کا یہ ردعمل کیمرے میں قید ہو گیا، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
Respect for Nabi & Afghanistan +9999 📈
— Jara (@JARA_Memer) January 12, 2026
Afghan cricketer Md. Nabi, who is currently playing in the Bangladesh Premier League (BPL), was asked about Mustafizur Rahman being released from the IPL.
Nabi got angry and refused to comment on the matter. 😡🤬
🇮🇳 🩷 🇦🇫 pic.twitter.com/FoRFkPwpMy
مستفیض الرحمان کا تنازع کیا ہے؟
بی سی سی آئی نے مبینہ طور پر بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے قتل کے خلاف احتجاج کے تناظر میں مصطفیٰ زور رحمان کو آئی پی ایل سے باہر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس فیصلے کے بعد بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے درخواست کی تھی کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بھارت میں ہونے والے بنگلا دیش کے میچز کو سری لنکا منتقل کیا جائے، تاہم آئی سی سی نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔
کرک بز کی تازہ رپورٹ کے مطابق بنگلا دیش کے میچز کے مقامات میں تبدیلی ہو سکتی ہے، لیکن انہیں سری لنکا منتقل نہیں کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ میچز کو کولکتہ اور ممبئی سے ہٹا کر چنئی اور ترواننت پورم منتقل کیا جائے۔











