اہم ترین

اے آئی آلات سے دماغ، آنکھ اور کلائی کرے گی الزائمر سے کینسر تک بیماریوں کی نشاندہی

مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے طبی دنیا میں ایک نئے انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے، جہاں اب مہنگے اسپتالوں اور پیچیدہ مشینوں کے بجائے گھریلو سطح پر بڑی بیماریوں کی ابتدائی نشاندہی ممکن ہو رہی ہے۔

لاس ویگاس میں منعقد ہونے والے کنزیومر الیکٹرانکس شو (سی ای ایس) میں ایسی جدید اے آئی ڈیوائسز متعارف کرائی گئیں جو الزائمر، ڈپریشن، مرگی اور حتیٰ کہ کینسر جیسی بیماریوں کے ابتدائی آثار کو بروقت پکڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

امریکی اسٹارٹ اپ نیوریبل نے ایک ایسا ہیڈسیٹ تیار کیا ہے جو ای ای جی ٹیکنالوجی کے ذریعے دماغی سرگرمی کو ریکارڈ کرتا ہے۔ کمپنی کے سی ای او ریمسیس الکائیڈے کے مطابق یہ ڈیوائس صارف کے دماغی ڈیٹا کا اس کی میڈیکل ہسٹری سے موازنہ کرکے خطرے کی ابتدائی وارننگ دے سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ اسمارٹ واچز پارکنسنز جیسی بیماری کو صرف اس وقت شناخت کرتی ہیں جب جسمانی علامات ظاہر ہو جائیں، جبکہ دماغ کئی برس پہلے ہی اس بیماری سے لڑ رہا ہوتا ہے۔

ای ای جی ٹیکنالوجی کے ذریعے ان علامات کو علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی پکڑا جا سکتا ہے۔

یہ ڈیوائس الزائمر کی ابتدائی علامات اور ڈپریشن کی نشاندہی بھی کر سکتی ہے، جبکہ یوکرینی فوج کے ساتھ مل کر محاذِ جنگ پر موجود فوجیوں میں پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) کی جانچ کے لیے بھی استعمال کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب فرانسیسی اسٹارٹ اپ ناؤکس نے ای ای جی ایئر بڈز تیار کیے ہیں جو مرگی کے مریضوں میں دماغی اسپائکس یعنی غیر معمولی برقی جھٹکوں کو شناخت کرتے ہیں۔ یہ آلہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) سے منظور شدہ ہے اور رات کے وقت پہننے کے لیے بنایا گیا ہے۔

ادھر اری ہیلتھ نامی کمپنی محض 50 ڈالر میں ایک ایسا موبائل ایکسٹینشن لانچ کرنے جا رہی ہے جو آنکھ کی پتلی (آئرس) اسکین کرکے بیماریوں کی نشاندہی کا دعویٰ کرتی ہے۔ اگرچہ آئریڈولوجی کو سائنسی طور پر متنازع سمجھا جاتا ہے، تاہم کمپنی کے مطابق ان کا آلہ آنتوں کے کینسر کی تشخیص میں 81 فیصد تک درست ثابت ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ڈیوائسز حتمی تشخیص نہیں کرتیں، مگر بروقت وارننگ دے کر مریض کو ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں مدد ضرور فراہم کرتی ہیں۔

یوں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی نے طبی خود تشخیص کو ایک نئی سمت دے دی ہے، جہاں مستقبل میں بیماری کا پتا چلانا کلائی، کان یا موبائل فون تک محدود ہو سکتا ہے۔۔

پاکستان