اہم ترین

سِری کو ملا جیمنائی کا دماغ: ایپل اور گوگل کی اے آئی شراکت داری پر ایلون مسک برہم

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک غیر متوقع مگر تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک دوسرے کے سخت حریف سمجھے جانے والے ایپل اور گوگل نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے میدان میں ہاتھ ملا لیا ہے۔ اس طویل المدتی شراکت داری کے تحت ایپل کے آنے والے اے آئی فاؤنڈیشن ماڈلز کو گوگل کے جدید جیمنائی اے آئی ماڈل اور اس کے طاقتور کلاؤڈ انفراسٹرکچر کی سپورٹ حاصل ہوگی۔

ایپل کے مطابق، اس اشتراک کا مقصد ایپل انٹیلیجنس کو مزید مضبوط بنانا ہے، جس سے آئی فون، آئی پیڈ اور میک صارفین کو پہلے سے کہیں زیادہ اسمارٹ، تیز اور ذاتی نوعیت کا تجربہ حاصل ہوگا۔ خاص طور پر سری اب گوگل کے جیمنائی اے آئی کی مدد سے صارف کے کانٹیکسٹ، پسند اور نیت کو بہتر طور پر سمجھ سکے گی۔

جیمینائی اے آئی کو بیک بون کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایپل ایسے فیچرز متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے جو وائس کمانڈز، کانٹینٹ جنریشن، پروڈکٹیوٹی ٹولز اور آن ڈیوائس اسسٹنس کو نئی سطح پر لے جائیں گے۔

ایلون مسک کا سخت ردعمل

ایپل اور گوگل کے درمیان اے آئی ڈیل کی خبر سامنے آتے ہی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ معاہدہ گوگل کی پہلے سے موجود طاقت اور اثر و رسوخ کو مزید بڑھا دے گا۔

مسک کا کہنا تھا کہ گوگل کے پاس پہلے ہی اینڈرائیڈ اور کروم جیسی بڑی ٹیکنالوجیز موجود ہیں، اور یہ شراکت مارکیٹ میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایپل نے اس معاہدے سے قبل اوپن اے آئی، اینتھروپک اور پرپلیکسٹی جیسے اداروں کے ساتھ شراکت داری پر بھی غور کیا تھا، مگر آخرکار گوگل کی ٹیکنالوجی کو زیادہ مؤثر قرار دیا گیا۔

ایپل نے گوگل کو کیوں چُنا؟

ایپل کا کہنا ہے کہ مختلف اے آئی پلیٹ فارمز کے تفصیلی تجزیے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ جیمنائی اے آئی اگلے مرحلے کی اے آئی ڈیولپمنٹ کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہے۔

کمپنی کے مطابق، جیمینائی کی جدید ریزننگ صلاحیتیں اور مضبوط کلاؤڈ سپورٹ دنیا بھر میں، خصوصاً بھارت جیسے تیزی سے بڑھتے ہوئے مارکیٹس میں صارفین کے لیے نئے اور انوکھے تجربات لانے میں مدد دے گی۔

پاکستان