ایران میں حکومت مخالف مظاہرے متواتر دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئے ہیں، دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے گا اسے اپنی درآمدی مصنوعات پر امریکا کو اضافی 25 فیصد ٹیرف دینا ہوگا۔
غیر ملکی خبر ایجنسیوں نے غیر ملکی حقوق گروپس کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران میں گزشتہ ہفتے سے جاری احتجاج کے دوران کم از کم 646 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 10 ہزار سے زائد گرفتاریاں ہو چکی ہیں، جبکہ انٹرنیٹ اور موبائل رابطے شدید متاثر ہیں ،بعض شہروں میں انٹرنیٹ مکمل بند ہے۔
اسی دوران ایران میں حکومت کی حمایت میں بھی بڑے اجتماعات ہوئے ہیں، جن میں ہزاروں افراد نے غیر ملکی سازشوں کے خلاف ریلیاں نکالی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے گا اسے امریکا کو اپنی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف دینا ہوگا۔ وہ ایران کے خلاف مضبوط آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں فوجی کارروائی کے امکانات بھی شامل ہو سکتے ہیں، مگر وہ سفارتی حل کے دروازے بھی کھلے رکھنے کی بات کر رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی صورتحال کے لیے تیار ہے — چاہے وہ مذاکرات ہوں یا کوئی شدید ردعمل۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے متعدد شہروں میں مظاہروں پر قابو پالیا ہے اور جلد انٹرنیٹ بجلی کی طرح بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے، جبکہ پرتشدد مظاہرین کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔
چین نے امریکا کی جانب سے ایران اور اس کے تجارتی شراکت داروں پر عائد کردہ پابندیوں اور ٹیرف پالیسی کی سخت مخالفت کی ہے۔
ترجمان چینی وزارت خارجہ ماؤ ننگ نے کہا ہے کہ ٹیرف کی جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ چین اپنے جائز اور قانونی حقوق و مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گا۔ بیجنگ ایران کی قومی استحکام برقرار رکھنے میں حمایت کرتا ہے۔











