اہم ترین

امریکا میں ایک مرتبہ پھر سرکاری شٹ ڈاؤن: 75 فیصد ادارے بند

امریکی ایوان نمائندگان کانگریس 2026 کے بجٹ کی منظوری مقررہ ڈیڈ لائن تک نہ دے سکا ۔ جس کی وجہ سے حکومت ایک مرتبہ پھر جزوی طور پر شٹ ڈاؤن کا شکار ہو گئی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعے کے روز حکومتی اخراجات کے بل کی منظوری دے دی تھی، تاہم کانگریس کا اجلاس پیر تک نہیں ہوسکے گا، جس کے باعث کم از کم قلیل المدتی شٹ ڈاؤن ناگزیر ہو گیا ہے۔

اس شٹ ڈاؤن سے وفاقی حکومت کے تقریباً 75 فیصد آپریشنز متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں تعلیم، صحت، رہائش اور دفاع جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔ شٹ ڈاؤن طویل ہوا تو دسوں ہزار سرکاری ملازمین کو بغیر تنخواہ رخصت یا معاوضے کے کام کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

سیاسی بحران کی بڑی وجہ منیاپولس میں وفاقی امیگریشن ایجنٹس کی فائرنگ بنی، جس میں دو مظاہرین، الیکس پریٹی اور رینی گُڈ ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد ڈیموکریٹس نے محکمہ داخلہ (ڈی ایچ ایس) کے لیے مزید فنڈنگ کی شدید مخالفت کر دی۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما ڈک ڈربن نے ٹرمپ انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈرگ اسمگلرز اور انسانی اسمگلرز کے بجائے پرامن مظاہرین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا رہا ہے۔

ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹ کے منظور شدہ معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے ایوانِ نمائندگان سے فوری منظوری کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ ان کے دوسرے صدارتی دور کے دوسرے شٹ ڈاؤن کو طویل ہونے سے روکا جا سکے۔

سینیٹ میں تعطل اس وقت ختم ہوا جب ری پبلکن سینیٹر لنڈزی گراہم نے اپنی رکاوٹ ہٹا لی، تاہم اس کے بدلے مستقبل میں سنچری سٹیز کے خلاف سخت قانون سازی پر ووٹنگ کی یقین دہانی حاصل کی گئی۔

وائٹ ہاؤس اور امریکی میڈیا اس پیش رفت کو امیگریشن پالیسی پر دباؤ اور سیاسی پسپائی کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ ری پبلکنز خود بھی اس معاملے پر منقسم نظر آتے ہیں۔

آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ نے تمام اداروں کو منظم شٹ ڈاؤن کی تیاری کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ یہ تعطل مختصر ہوگا۔

پاکستان