اہم ترین

اوپن اے آئی کا ویڈیو ایپ سورا بند کرنے کا اعلان

دنیا کی معروف ترین اے آئی کمپنی اوپن اے آئی نے اپنی ویڈیو بنانے والی ایپ سوراکو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو محض چھ ماہ قبل ہی متعارف کرائی گئی تھی۔ یہ فیصلہ کمپنی کی جانب سے اپنی حکمت عملی کو صارفین کی ایپس سے ہٹا کر کاروباری (بزنس) ٹولز کی جانب منتقل کرنے کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ ہم سورا کو الوداع کہہ رہے ہیں۔ جس کے ساتھ اس ایپ کے اختتام کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی۔ سورا کو گزشتہ سال مصنوعی ذہانت کی دنیا کی نمایاں ترین پروڈکٹس میں شمار کیا جا رہا تھا، کیونکہ یہ صارفین کو سادہ ہدایات کے ذریعے انتہائی حقیقی ویڈیوز بنانے کی سہولت فراہم کرتی تھی۔

اوپن اے آئی کے مطابق جلد ہی ایپ کو مرحلہ وار بند کرنے کا شیڈول جاری کیا جائے گا، جبکہ صارفین کو اپنی تخلیقات محفوظ کرنے کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمپنی کو اپنے کاروباری ماڈل کی پائیداری سے متعلق بڑھتے ہوئے سوالات کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کمپنی کے اخراجات آمدنی کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں، حالانکہ دنیا بھر میں اس کے روزانہ صارفین کی تعداد تقریباً ایک ارب بتائی جاتی ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین نے اس تبدیلی سے متعلق عملے کو بریفنگ بھی دی۔ اس کے ساتھ ہی کمپنی کی ایپلی کیشنز چیف فیجی سیمو نے بھی عملے کو ہدایت کی کہ وہ غیر ضروری منصوبوں میں الجھنے کے بجائے بنیادی اہداف پر توجہ دیں۔

کمپنی اب ایجنٹک اے آئی ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، جو ایسے خودکار نظام ہیں جو کمپیوٹر پر خود سے کام انجام دے سکتے ہیں، جیسے سافٹ ویئر لکھنا، ڈیٹا کا تجزیہ کرنا اور دیگر پیچیدہ امور سرانجام دینا۔

دوسری جانب سوراکی بندش سے ڈزنی کے ساتھ ہونے والا ایک بڑا معاہدہ بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دسمبر میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت ڈزنی ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والا تھا اور اپنی مشہور کرداروں کو ویڈیوز بنانے کے لیے لائسنس دینے پر آمادہ تھا، جس کا مقصد سورا کو ڈزنی پلس اسٹریمنگ سروس کے ساتھ جوڑنا تھا۔

تاہم ڈزنی کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ اوپن اے آئی کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور مستقبل میں بھی نئی اے آئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ذمہ دارانہ انداز میں کام جاری رکھیں گے۔

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیاں اب صارفین کی ایپس کے بجائے انٹرپرائز اور خودکار نظاموں کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہی ہیں، جو مستقبل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کا رخ بدل سکتی ہیں۔

پاکستان