کم و بیش 58 سال بعد امریکا ایک بار پھر چاند کی جانب انسانی مشن بھیجنے جا رہا ہے، جہاں ناسا کا تاریخی مشن آرٹیمس 2 آئندہ ماہ یکم اپریل کے قریب فلوریڈا سے لانچ ہونے کے لیے تیار ہے۔
یہ مشن اپالو سسٹم کے بعد چاند کے گرد پہلا انسانی سفر ہوگا، تاہم اس بار خلا باز چاند پر اترنے کے بجائے اس کے گرد چکر لگا کر واپس آئیں گے، جیسا کہ 1968 میں اپالو 8 نے کیا تھا۔
اس مشن میں چار خلا باز شامل ہیں جن میں امریکی کمانڈر ریڈ وائزمن، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ کے ساتھ کینیڈا کے جیریمی ہینسن بھی شامل ہیں۔ یہ تقریباً 10 روزہ سفر کئی حوالوں سے تاریخی ہوگا، کیونکہ پہلی بار کسی خاتون، سیاہ فام اور غیر امریکی خلا باز کو چاند کے مشن پر بھیجا جا رہا ہے۔
یہ ناسا کے نئے اور طاقتور راکٹ اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) کی پہلی انسانی پرواز بھی ہوگی، جسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ امریکہ مستقبل میں بار بار چاند پر جا سکے اور وہاں مستقل بیس قائم کر سکے، جو آگے چل کر مریخ کے سفر کے لیے بنیاد بنے گا۔
ریڈ وائزمن کے مطابق ہم چاند پر واپس جا رہے ہیں کیونکہ یہ مریخ تک ہمارے سفر کا اگلا مرحلہ ہے۔
آرٹیمس پروگرام کا مقصد ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنا ہے جو انسانوں کو مستقبل میں مریخ تک لے جا سکے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ چین کے ساتھ ایک نئی خلائی دوڑ کا پہلو بھی سامنے آ رہا ہے، کیونکہ چین بھی 2030 تک انسان کو چاند پر اتارنے کا ارادہ رکھتا ہے، خاص طور پر چاند کے جنوبی قطب پر جہاں قدرتی وسائل کی موجودگی کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مقابلہ 1960 کی دہائی کی خلائی دوڑ جیسا تو نہیں، لیکن اس میں تکنیکی برتری حاصل کرنے کی دوڑ ضرور شامل ہے۔
تاہم اس مشن میں خطرات بھی موجود ہیں، کیونکہ خلا باز ایسے خلائی جہاز میں سفر کریں گے جو اس سے پہلے کبھی انسانوں کے ساتھ چاند تک نہیں گیا۔ زمین سے چاند کا فاصلہ تقریباً 3 لاکھ 84 ہزار کلومیٹر ہے، جو انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ دور ہے۔
مشن کے دوران خلا باز مختلف تکنیکی جانچ اور مشقیں انجام دیں گے تاکہ راکٹ اور خلائی جہاز کی کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اگر یہ مشن کامیاب رہا تو 2028 تک چاند پر دوبارہ انسان اتارنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
اس منصوبے میں تاخیر اور بڑھتے اخراجات جیسے مسائل بھی درپیش رہے ہیں، جبکہ چاند پر اترنے کے لیے الگ لینڈر کی ضرورت ہوگی، جس پر ایلون مسک اور فیف بیزوس کی کمپنیوں کے درمیان کام جاری ہے۔
ناسا کو امید ہے کہ یہ مشن نہ صرف تکنیکی کامیابی حاصل کرے گا بلکہ ماضی کی طرح دنیا بھر میں امید اور اتحاد کا پیغام بھی دے گا، جیسا کہ 1968 میں اپالو 8 نے کیا تھا، جب ایک ارب سے زائد افراد نے اس تاریخی لمحے کو براہ راست دیکھا تھا۔
تقریباً 60 سال بعد ایک بار پھر انسان چاند کی جانب روانہ ہونے والا ہے، اور آرٹیمس 2 کا عملہ دنیا کو ایک نئی امید دینے کے لیے تیار ہے۔










