اہم ترین

پاکستان کی ترکیہ اور مصر کے ساتھ امریکا ایران مذاکرات کے لیے سفارتی کوششیں تیز

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں، جبکہ پاکستان ، ترکیہ اور مصر اس سلسلے میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق ایک 15 نکاتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا ہے، جبکہ تینوں ممالک اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ یہ ملاقات آئندہ 48 گھنٹوں میں متوقع ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ فوجی اقدامات بھی بڑھا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی دستے تعینات کیے ہیں، جن میں 31ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کے تقریباً 2500 اہلکاروں کے بعد اب 82ویں ایئربورن ڈویژن کے تقریباً 1500 فوجی بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ یہ یونٹ خاص طور پر تیز رفتار کارروائی اور زمینی مداخلت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ادھر ایک اہم پیش رفت میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار امریکا کی جانب سے بھیجے گئے نمائندوں، بشمول جیراڈ کشنر اور اسٹیو وٹکووف سے بات چیت میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اس کے بجائے وہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے کردار پر بھی مختصر تبصرہ کیا، جن کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ جنگ جاری رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اس حوالے سے کہا کہ وہ ایک جنگجو ہیں اور ہمارے ساتھ لڑ رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت صورت حال نہایت حساس ہے، جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب فوجی تیاریوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں حالات کسی بھی سمت جا سکتے ہیں۔

پاکستان