ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششیں جہاں عالمی سطح پر سراہی جارہی ہیں۔ وہیں اسسے بھارت میں برسراقتدار ہندو انتہا پسندجماعت بی جے پی کی حکمت عملی پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو میں پاکستان کو ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد نے ان ممالک کے نمائندوں کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔
اسی تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورتحال اور ممکنہ سفارتی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
حالات سازگار رہے تو ان مجوزہ مذاکرات کا آغاز اسی ہفتے متوقع ہے، جن میں امریکی انتظامیہ اور ایرانی حکام کی شرکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کی خبروں پر بھارت میں اپوزیشن جماعتوں اور غیرجانبدار صحافتی حلقے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہےہیں۔
کانگریس رہنما راہول گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کو مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی سطح پر سنجیدہ نہیں لی جا رہی۔
کانگریس کے دیگر رہنماؤں پون کھیڑا اور جے رام رمیش نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اہم عالمی معاملات میں بھارت کا کردار کمزور دکھائی دے رہا ہے جبکہ پاکستان سفارتی میدان میں متحرک ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایران، اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے پرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں کشیدگی کے طویل المدتی معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر حکومت نے ایندھن، سپلائی چین اور مہنگائی جیسے معاملات سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کو ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے خطے اور عالمی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔










