جرمنی میں فلسطینی تنظیم حماس سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو ہتھیاروں کی خریداری کے مقدمے میں ساڑھے چار سے چھ سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
جرمن نیوز دیب سائیٹ ڈی ڈبلیو کےمطابق دارالحکومت برلن کی ایک عدالت میں گزشتہ سال فروری سے 4 ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت جاری تھی۔
چاروں ملزمان مرد اور جن کی عمریں 36 سے 58 سال کے درمیان ہیں۔ ان میں دو لبنانی نژاد، ایک مصری شہری اور ایک نیدرلینڈز کا شہری شامل ہے۔ انہیں دسمبر 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
استغاثہ کے مطابق ملزمان نے یورپ میں ایک خفیہ اسلحہ ذخیرہ گاہ قائم کی تھی، جسے مستقبل میں اسرائیلی مفادات اور یہودی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ان افراد نے یہ ہتھیار پولینڈ، بلغاریہ اور ڈنمارک سمیت مختلف یورپی یونین ممالک سے حاصل کیے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ملزمان پر حماس کی رکنیت اور یورپ کے مختلف ممالک میں اسلحہ خریدنے کے الزامات ثابت ہو گئے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ممکنہ اہداف میں برلن میں واقع اسرائیلی سفارتخانہ، امریکی فوج کے زیر استعمال رامشٹائن ایئربیس اور ٹیمپل ہوف ایئرپورٹ کے اطراف کے علاقے شامل تھے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ پیش کیے گئے شواہد اس قدر مضبوط تھے کہ ملزمان کے خلاف الزامات میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہی۔ استغاثہ نے 5 سے 7 سال قید کی سزاؤں کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے نسبتاً کم مدت کی سزائیں سنائیں۔










