پاکستان کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بولر نسیم شاہ پر سینٹرل کنٹریکٹ اور سوشل میڈیا گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر 2 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔
پی ایس ایل 11 کے افتتاح میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شرکت پر نسیم شاہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے تنقیدی پوسٹ کی گئی تھی۔
پوسٹ وائرل ہونے کے بعد اسے ڈیلیٹ کردیا گیا تھا اور نسیم شاہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک ہوگیا تھا ۔
پی سی بی نے اس معاملے پر نسیم شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔ کرکٹ بورڈ کا موقف تھا کہ نسیم شاہ نے سینٹرل کانٹریکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔
بورڈ کے اعلامیے کے مطابق 30 مارچ کو تین رکنی ڈسپلنری کمیٹی نے نسیم شاہ کا جواب موصول ہونے کے بعد ذاتی سماعت کی۔ نسیم شاہ نے غیر مشروط معافی مانگی، تاہم کمیٹی نے قرار دیا کہ انہوں نے معاہدے کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کی، جس پر جرمانہ عائد کیا گیا۔
اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ نسیم شاہ نے اپنے سوشل میڈیا ایڈوائزر کو برطرف کر دیا ہے جبکہ پی سی بی نے مذکورہ ایڈوائزر کو بلیک لسٹ بھی کر دیا ہے تاکہ وہ مستقبل میں کسی کھلاڑی کے ساتھ کام نہ کر سکے۔
پی سی بی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ پیشہ ورانہ معیار، معاہدوں کی پاسداری اور کھیل کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔









