اہم ترین

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک نیا انقلاب: نئے اے آئی ایجنٹ اوپن کلا پر سب حیران

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک نیا انقلاب سر اٹھا رہا ہے، جہاں اوپن کلا نامی جدید اے آئی ایجنٹ نے ٹیکنالوجی ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ اس منفرد ٹول کے خالق پیٹر اسٹین برجر کے مطابق اب وہ وقت دور نہیں جب اے آئی عام انسان کا ذاتی معاون بن جائے گا۔

اوپن کلا کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف سوالوں کے جواب دینے تک محدود نہیں بلکہ عملی کام بھی انجام دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ صارف کے لیے فلائٹ چیک اِن کرنے جیسے حقیقی دنیا کے کام بھی سرانجام دے سکتا ہے، گویا آپ نے کسی دوست کو پیغام بھیجا ہو۔

یہ ٹیکنالوجی مختلف اے آئی ماڈلز کے ساتھ جڑ کر انسٹنٹ میسجنگ ایپس کے ذریعے کام کرتی ہے، جس سے اس کا استعمال نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے جینسین ہوانگ نے اسے اگلا چیٹ جی پی ٹی قرار دیا، جبکہ این ویڈیا اس وقت دنیا کی سب سے قیمتی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔

دوسری جانب اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین نے بھی اس ٹیکنالوجی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسٹین برجر کو اپنی کمپنی میں شامل کر لیا ہے تاکہ مستقبل کے اے آئی ایجنٹس پر کام کیا جا سکے۔

تاہم جہاں اس ٹیکنالوجی نے سہولتوں کے دروازے کھولے ہیں، وہیں اس سے وابستہ خطرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے اے آئی ایجنٹس کو ذاتی معلومات تک رسائی دینا سائبر سکیورٹی کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے، خاص طور پر جب ہیکرز ان سسٹمز کو نشانہ بنا سکتے ہوں۔

چین میں اوپن کلا کو تیزی سے اپنایا جا رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر اے آئی کی دوڑ مزید تیز ہو گئی ہے۔ تاہم اسٹین برجر کے مطابق ابھی بھی امریکی ماڈلز کو برتری حاصل ہے، لیکن چین کی رفتار خطرے کی گھنٹی ضرور ہے۔

اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے اسٹین برجر نے کہا کہ اے آئی ایک ہتھوڑے کی طرح ہے، اسے اچھے اور برے دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اصل ذمہ داری صارفین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو سمجھ کر استعمال کریں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ 2023 اور 2024 چیٹ جی پی ٹی کا دور تھا، 2025 کوڈنگ ایجنٹس کا سال رہا، جبکہ 2026 کو جنرل اے آئی ایجنٹسکا سال قرار دیا جا رہا ہے جہاں مشینیں نہ صرف سمجھیں گی بلکہ خود عمل بھی کریں گی۔ یہ سوال اب صرف تصور نہیں بلکہ حقیقت بنتا جا رہا ہےکہ کیا ہم واقعی ایک ایسی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں جہاں اے آئی ہماری روزمرہ زندگی کے فیصلے کرے گا؟

پاکستان