اہم ترین

مشرق وسطیٰ کشیدگی: آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کا راستہ بھی خطرے میں پڑ گیا

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے آبنائے ہر مز کے بعد دنیا کے ایک اور نہایت اہم بحری راستے باب المندب کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے، جہاں ایران کے حامی حوثی باغیوں کی ممکنہ کارروائیوں نے عالمی تجارت اور توانائی سپلائی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق باب المندب وہ بحری گزرگاہ ہے جو خلیج عدن کو بحیرہ احمر سے ملاتی ہے اور آگے جا کر سوئز کینال کے ذریعے یورپ تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 15 فیصد بحری تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے، جس میں تیل اور گیس کی بڑی مقدار شامل ہے۔

حالیہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یہ گروپ اب براہ راست اس تنازع میں شامل ہو چکا ہے، جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اس پر دباؤ بڑھایا گیا تو وہ اس اہم راستے کو بند کرنے جیسے اقدامات اٹھا سکتا ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے کر صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں متاثر ہوئے تو عالمی سپلائی چین شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر یورپ کو ایشیا سے آنے والی اشیاء اور خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل میں بڑی رکاوٹ پیش آئے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے ہی بحری ٹریفک میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ 2023 سے قبل روزانہ 60 سے 70 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، لیکن اب یہ تعداد تقریباً نصف رہ گئی ہے کیونکہ کئی کمپنیوں نے طویل اور مہنگا متبادل راستہ کیپ آف گُڈ ہوپ اختیار کر لیا ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ راستہ مکمل طور پر بند ہو گیا تو نہ صرف تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی بلکہ خوراک کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر افریقا کے غریب ممالک میں جہاں درآمدی اناج پر انحصار زیادہ ہے۔

حوثیوں کے پاس اس تنگ گزرگاہ کو وقتی طور پر بند کرنے کی صلاحیت موجود ہے، مگر طویل عرصے تک اسے بند رکھنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس کے لیے مسلسل فوجی طاقت اور وسائل درکار ہوں گے۔ غرض یہ کہ باب المندب صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ اگر یہ بند ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

پاکستان