اہم ترین

ایران جنگ کے پہلے مہینے میں ہی عالمی معیشت کو 111 ارب ڈالر کا نقصان

ماحولیاتی تنظیم 350 ڈاٹ او آر جی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے پہلے مہینے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دنیا بھر کے صارفین اور کاروباری اداروں کو تقریباً 111 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شیل، شیورون اور ایکسون موبل جیسی بڑی آئل کمپنیوں نے ایران جنگ کے دوران بھاری منافع کمانے کی پوزیشن میں ہیں۔ تنظیم نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان غیر متوقع بھاری منافع (ونڈ فال پرافٹ) پر ٹیکس عائد کیا جائے اور اس رقم کو عوام کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جائے۔

تنظیم نے خبردار کیا کہ یہ تخمینہ صرف تیل اور گیس کی قیمتوں تک محدود ہے، جبکہ اس کے وسیع اثرات جیسے کھاد اور خوراک کی بڑھتی قیمتیں اس میں شامل نہیں۔ اس لیے حقیقی معاشی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔

ایشیا میں مختلف ممالک اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ فلپائن میں قانون سازوں نے آئل کمپنیوں کے منافع کو محدود کرنے کے لیے ونڈ فال ٹیکس کی تجویز پیش کی ہے، جبکہ بھارت نے تیل کی برآمدات پر دوبارہ ونڈ فال ٹیکس نافذ کر دیا ہے۔

اسی طرح انڈونیشیا کے صدر نے توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے کے لیے 100 گیگا واٹ شمسی توانائی منصوبے شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا کہ قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری ہی قیمتوں کو مستحکم کرنے، توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور مستقبل کے ایسے بحرانوں سے معیشت کو بچانے کا مؤثر حل ہے۔

پاکستان