اہم ترین

عرب ممالک سے ایران جنگ کے اخراجات کا مطالبہ کر سکتے ہیں: ترجمان وائٹ ہاؤس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ جنگی اخراجات کے لیے عرب ممالک سے مالی معاونت طلب کی جا سکتی ہے، جبکہ دوسری جانب سفارتی کوششوں کو بھی جاری رکھنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیووٹ نے کہا کہ عرب ممالک سے اخراجات اٹھانے کے بارے میں صدر ٹرمپ دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ تجویز صدر کے پاس زیر غور ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا اب تک ایران میں 11 ہزار سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے ایران میں امریکی فوج بھیجنے کے امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔ اس کے باوجود، ان کے مطابق سفارت کاری اب بھی امریکی پالیسی کی پہلی ترجیح ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ ایرانی حکام ان مذاکرات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

پریس بریفنگ کے دوران کیرولین لیووٹ نے ایک اور سوال کے جواب میں امریکی فوجیوں کے لیے دعا کی اپیل کا دفاع بھی کیا۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب پوپ لیو چہار دہم نے کہا تھا کہ خدا ان لوگوں کی دعائیں قبول نہیں کرتا جو جنگ کرتے ہیں۔

کیرولین لیووٹ نے کہا کہ امریکی صدر یا فوجی قیادت کی جانب سے عوام سے فوجیوں کے لیے دعا کی اپیل میں کوئی برائی نہیں، خاص طور پر ان اہلکاروں کے لیے جو بیرون ملک خدمات انجام دے رہے ہیں۔

امریکی مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک جانب ایران پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف سفارتی راستہ کھلا رکھنے کی کوشش بھی جاری ہے۔

پاکستان