مشرقِ وسطیٰ میں ایک ماہ سے جاری علاقائی جنگ مزید سنگین رخ اختیار کر گئی ہے۔ منگل کے روز ایرانی دارالحکومت تہران تازہ دھماکوں سے لرز اٹھا، جبکہ ایران نے خلیجی ممالک اور اسرائیل پر میزائلوں کی برسات کر دی۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے اہم تیل برآمدی مراکز، بجلی گھروں اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد سامنے آئی ہے۔
اسرائیلی فوج نے تہران کے مغربی علاقوں میں فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی وارننگ دی تھی، جس کے بعد شہر کے مختلف حصوں میں دھماکے ہوئے اور بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔
ایران نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (دبئی) پر میزائل داغے۔ سعودی حکام نے 8 بیلسٹک میزائل گرانے کا دعویٰ کیا، جبکہ دبئی میں ملبہ گرنے سے 4 افراد زخمی ہوئے۔ کویت کے پورٹ پر ایک آئل ٹینکر میں ایرانی حملے کے باعث آگ لگ گئی۔
اسرائیل کی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ لڑائی میں مزید 4 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ ایک دھماکے میں اقوامِ متحدہ کے دو انڈونیشیائی امن برقرار رکھنے والے اہلکار بھی جان بحق ہوئے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر جنگ ختم کرنے کا معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے تمام بجلی گھر اور جزیرہ خارک (تیل کا مرکز) تباہ کر دیے جائیں گے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فوج نے آدھے سے زیادہ عسکری اہداف حاصل کر لیے ہیں اور ایران کی اسلحہ سازی کی صنعت تباہی کے قریب ہے۔
ایران نے عالمی تیل کی تجارت کے لیے اہم ترین راستے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس لگانے اور امریکی و اسرائیلی جہازوں پر مکمل پابندی کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایک عالمی اتحاد بنانے کا اشارہ دیا ہے۔
کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان فعال نظر آ رہا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار بیجنگ روانہ ہو رہے ہیں تاکہ چینی حکام سے مشاورت کی جا سکے۔ اس سے قبل پاکستان نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کی اور ایران و امریکہ کے درمیان مذاکرات کی پیشکش بھی کی ہے۔









