لاہور کی عدالت نے گلوکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف دائر 100 کروڑ روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے پر آٹھ سال بعد فیصلہ سنا دیا ہے۔
اپریل 2018 میں میشا شفیع کی جانب سے سوشل میڈیا پر علی ظفر کے خلاف لگائے گئے ہراسانی کے الزامات نے اس تنازع کو جنم دیا۔ اس کے ردعمل میں علی ظفر نے لاہور کی سیشن عدالت میں ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا۔ جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ الزامات سے ان کی شہرت اور کیریئر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کے خلاف دعوے کو ڈگری کر دیا۔ عدالت نے میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
یہ مقدمہ گزشتہ آٹھ سال سے زیرِ سماعت تھا، جس کے دوران مجموعی طور پر نو ججز تبدیل ہوئے جبکہ 283 پیشیوں میں 20 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔
گلوکار علی ظفر کے سو کروڑ (ایک ارب) روپے ہتک عزت دعوی کے جواب میں میشا شفیع نے بھی 2019 میں علی ظفر کے خلاف لاہور کی سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دو ارب روپے کا دعویٰ دائر کیا تھا جسے فروری 2020 میں مسترد کر دیا گیا تھا۔









