برطانیہ میں توانائی کے بحران کے تناظر میں بحیرہ شمالی میں تیل اور گیس کی تلاش دوبارہ شروع کرنے پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔مجموعی طور پر بحیرہ شمالی میں دوبارہ ڈرلنگ کا مطالبہ سیاسی طور پر پرکشش ضرور ہے، مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ مستقبل شاید تیل میں نہیں بلکہ صاف توانائی میں پوشیدہ ہے۔
اے ایف پی کے مطابق برطانیہ کی کنزرویٹیو پارٹی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بحر شمالی میں ڈرلنگ کی اجازت دے تاکہ مقامی توانائی وسائل سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس مطالبے کی حمایت ڈونلڈ ٹرمپ بھی کر چکے ہیں، جنہوں نے حالیہ بیان میں کہا کہ اپنا تیل خود نکالو
دوسری جانب حکمران لیبر پارٹی ماحولیاتی وجوہات کی بنیاد پر نئی کھدائی کے لائسنس روکنے کا وعدہ کر چکی ہے، اگرچہ اس پالیسی میں کچھ نرمی بھی دکھائی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تجویز عملی طور پر اتنی آسان نہیں۔ بحیرہ شمالی کو ایک پرانا اور تقریباً ختم ہوتا ہوا ذخیرہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں تیل اور گیس کی پیداوار 1990 کی دہائی کے آخر میں عروج پر تھی اور اب مسلسل کم ہو رہی ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی ڈرلنگ سے فوری طور پر نہ تو قیمتوں میں کمی آئے گی اور نہ ہی توانائی بحران حل ہوگا، کیونکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں طلب اور رسد کے مطابق طے ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ نئے منصوبوں سے پیداوار شروع ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
متبادل حل کے طور پر ماہرین قابل تجدید توانائی کی طرف تیزی سے منتقلی کو زیادہ مؤثر قرار دے رہے ہیں۔ برطانیہ پہلے ہی سمندری ہوا سے بجلی پیدا کرنے میں دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہے، اور اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری سے نہ صرف توانائی کے مسائل حل ہو سکتے ہیں بلکہ روزگار کے مواقع بھی بڑھ سکتے ہیں۔









