اہم ترین

آسٹریلیا میں اے آئی انقلاب: اینتھروپک کا آسٹریلوی حکومت سے بڑا معاہدہ

مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی ایتھروپک نے آسٹریلیا میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے لیے سرمایہ کاری کے امکانات کا عندیہ دے دیا

اے ایف پی کے مطابق آسٹریلیا اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے ایک اہم مرکز بننے کی راہ پر گامزن ہے، جس کی مثال مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی ایتھروپک کی جانب سے سرمایہ کاری کی کوششو سے ظاہر ہوتا ہے۔

کمپنی نے دارالحکومت کینبرا میں آسٹریلوی حکومت کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے ہیں، جس کے تحت دونوں فریق اے آئی کے شعبے میں طویل مدتی تعاون کریں گے۔

اینتھروپک کے شریک بانی ڈاریو اموڈئی کا کہنا ہےکہ آسٹریلیا اپنی قابلِ تجدید توانائی اور وسیع خالی اراضی کے باعث ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک “قدرتی شراکت دار” ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اے آئی کے لیے بڑی مقدار میں توانائی درکار ہوتی ہے۔

یہ ڈیٹا سینٹرز دراصل بڑے گودام نما مراکز ہوتے ہیں جہاں ڈیٹا محفوظ کیا جاتا ہے اور اے آئی سسٹمز کو چلانے کے لیے کمپیوٹنگ پاور فراہم کی جاتی ہے۔

تاہم اس پیش رفت پر خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ آسٹریلیا کے آرٹس سیکٹر نے اینتھروپک سمیت دیگر اے آئی کمپنیوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ کاپی رائٹ قوانین میں نرمی چاہتے ہیں تاکہ مقامی کتابوں اور موسیقی کو اے آئی ٹریننگ کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

مزید برآں، حکومت نے حال ہی میں ڈیٹا سینٹرز کے لیے نئے قواعد متعارف کرائے ہیں، جن کے تحت کمپنیوں کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ قابل تجدید توانائی استعمال کریں گی اور ماحولیاتی اثرات کو کم کریں گی۔

دوسری جانب اینتھروپک کو امریکا میں سیکیورٹی تنازع کا بھی سامنا ہے، جہاں اس کے اے آئی ماڈل کلاؤڈ کے استعمال پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

پاکستان